وضاحت: “باغ و بہار” اردو کی مشہور داستان ہے جسے میر امن دہلوی نے فورٹ ولیم کالج میں ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھا تھا۔
2. “باغ و بہار” کس کتاب کا ترجمہ ہے؟
(الف) الف لیلہ
(ب) کلیلہ و دمنہ
(ج) قصۂ چہار درویش
(د) بوستان خیال
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) قصۂ چہار درویش
وضاحت: میر امن نے “باغ و بہار” کو امیر خسرو سے منسوب فارسی کتاب “قصۂ چہار درویش” سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ایک آزاد ترجمہ ہے جس میں دہلی کی روزمرہ زبان استعمال کی گئی ہے۔
3. “باغ و بہار” کہاں لکھی گئی؟
(الف) دلی کالج، دہلی
(ب) فورٹ ولیم کالج، کلکتہ
(ج) جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد
(د) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) فورٹ ولیم کالج، کلکتہ
وضاحت: یہ کتاب فورٹ ولیم کالج، کلکتہ میں لکھی گئی جس کا مقصد انگریز افسران کو ہندوستانی زبانوں اور ثقافت سے روشناس کرانا تھا۔
4. قصے کے آغاز میں بادشاہ آزاد بخت کس ملک کا حکمران تھا؟
(الف) چین
(ب) ہندوستان
(ج) روم
(د) ایران
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) روم
وضاحت: داستان کے مطابق، آزاد بخت ملکِ روم کا بادشاہ تھا اور اس کا پایۂ تخت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) تھا۔
5. بادشاہ آزاد بخت کیوں غمگین اور پریشان رہتا تھا؟
(الف) ملک میں بغاوت کی وجہ سے
(ب) جنگ میں شکست کی وجہ سے
(ج) بے اولاد ہونے کی وجہ سے
(د) وزیر کی غداری کی وجہ سے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) بے اولاد ہونے کی وجہ سے
وضاحت: آزاد بخت کے پاس دنیا کی ہر نعمت تھی لیکن وہ بے اولاد تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر اداس اور فکر مند رہتا تھا کہ اس کے بعد اس کی سلطنت کا کوئی وارث نہیں۔
6. آزاد بخت کے وزیر کا کیا نام تھا؟
(الف) بختیار
(ب) دانش مند
(ج) خردمند
(د) جہاں آرا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) خردمند
وضاحت: بادشاہ آزاد بخت کے وزیر کا نام خردمند تھا، جو اپنے نام کی طرح بہت عقل مند اور بادشاہ کا وفادار تھا۔
7. وزیر خردمند نے بادشاہ کو اپنی پریشانی دور کرنے کے لیے کیا مشورہ دیا؟
(الف) دوسری شادی کرنے کا
(ب) ملک چھوڑ دینے کا
(ج) شکار پر جانے اور اللہ کے فقیروں سے ملنے کا
(د) جنگ کرنے کا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) شکار پر جانے اور اللہ کے فقیروں سے ملنے کا
وضاحت: وزیر نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ دل بہلانے کے لیے شکار پر جائے اور راتوں کو بھیس بدل کر گھومے، غریبوں اور فقیروں کی مدد کرے تاکہ ان کی دعا سے اس کی مراد پوری ہو۔
8. بادشاہ آزاد بخت ایک رات بھیس بدل کر کہاں گیا؟
(الف) ایک باغ میں
(ب) ایک قبرستان میں
(ج) ایک سرائے میں
(د) دریا کے کنارے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) ایک قبرستان میں
وضاحت: اپنی پریشانی کے عالم میں بادشاہ ایک رات بھیس بدل کر شہر سے باہر نکلا اور ایک قبرستان میں جا پہنچا۔
9. قبرستان میں بادشاہ نے کن لوگوں کو دیکھا؟
(الف) چار چوروں کو
(ب) چار درویشوں کو
(ج) چار سوداگروں کو
(د) چار سپاہیوں کو
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) چار درویشوں کو
وضاحت: قبرستان میں بادشاہ نے دیکھا کہ چار فقیر (درویش) ایک جگہ بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔
10. چاروں درویشوں نے آپس میں کیا کرنے کا عہد کیا تھا؟
(الف) مل کر تجارت کرنے کا
(ب) بادشاہ سے ملنے کا
(ج) اپنی اپنی سرگزشت سنانے کا
(د) حج پر جانے کا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) اپنی اپنی سرگزشت سنانے کا
وضاحت: چاروں درویشوں نے یہ طے کیا تھا کہ وہ سب باری باری اپنی زندگی کی کہانی سنائیں گے کہ وہ کس طرح فقیری تک پہنچے۔
11. “باغ و بہار” کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟
(الف) پیچیدہ پلاٹ
(ب) فلسفیانہ گہرائی
(ج) سلیس اور با محاورہ زبان
(د) شاعرانہ تشبیہات
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) سلیس اور با محاورہ زبان
وضاحت: “باغ و بہار” کو اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ میر امن نے اس میں دہلی کی ٹکسالی، سلیس، اور روزمرہ کی زبان استعمال کی جو اس سے پہلے ادبی نثر میں کم ہی نظر آتی تھی۔
12. بادشاہ آزاد بخت نے درویشوں کی باتیں کہاں سے سنیں؟
(الف) ایک درخت کے پیچھے چھپ کر
(ب) ایک قبر کی آڑ میں
(ج) ان کے ساتھ بیٹھ کر
(د) محل کی چھت سے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) ایک قبر کی آڑ میں
وضاحت: بادشاہ نے مناسب نہ سمجھا کہ ان کے بیچ میں جائے، اس لیے وہ ایک کونے میں ایک قبر کی آڑ میں چھپ کر ان کی گفتگو سننے لگا۔
13. لفظ ‘خردمند’ کے کیا معنی ہیں؟
(الف) بہادر
(ب) امیر
(ج) عقل مند
(د) وفادار
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) عقل مند
وضاحت: ‘خرد’ کا مطلب عقل اور ‘مند’ کا مطلب والا ہوتا ہے۔ اس طرح ‘خردمند’ کے معنی عقل مند یا دانا ہیں۔ وزیر کا نام اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا تھا۔
14. آزاد بخت کی کہانی کس صنفِ ادب سے تعلق رکھتی ہے؟
(الف) ناول
(ب) افسانہ
(ج) داستان
(د) ڈرامہ
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) داستان
وضاحت: “باغ و بہار” ایک داستان ہے، جو طویل قصوں، مافوق الفطرت عناصر، اور پلاٹ در پلاٹ کی تکنیک پر مبنی ہوتی ہے۔
15. جب بادشاہ درویشوں کے پاس پہنچا تو وہ کیا کر رہے تھے؟
(الف) کھانا کھا رہے تھے
(ب) نماز پڑھ رہے تھے
(ج) آگ کے گرد بیٹھے تھے
(د) سو رہے تھے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) آگ کے گرد بیٹھے تھے
وضاحت: داستان میں ذکر ہے کہ درویش الاؤ (آگ) کے گرد بیٹھے تھے اور اپنی اپنی بپتا سنانے کی تیاری کر رہے تھے۔
16. بادشاہ نے درویشوں کی کہانیاں سن کر کیا عہد کیا؟
(الف) وہ ان سب کو اپنا وزیر بنا لے گا
(ب) اگر اس کی مراد پوری ہوئی تو وہ ایک عالی شان عمارت بنوائے گا
(ج) وہ ان کے ساتھ فقیری اختیار کر لے گا
(د) وہ ان سب کو قتل کروا دے گا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) اگر اس کی مراد پوری ہوئی تو وہ ایک عالی شان عمارت بنوائے گا
وضاحت: درویشوں کی کہانیاں سن کر بادشاہ نے دل میں عہد کیا کہ اگر اللہ نے اسے اولاد دی تو وہ ان درویشوں کے لیے ایک شاندار عمارت تعمیر کروائے گا جہاں وہ آرام سے رہ سکیں۔
17. بادشاہ کے ہاں پیدا ہونے والے بیٹے کا کیا نام رکھا گیا؟
(الف) خردمند
(ب) آزاد بخت ثانی
(ج) بختیار
(د) کامران
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) بختیار
وضاحت: کچھ عرصے بعد اللہ نے بادشاہ کی دعا قبول کی اور اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام ‘بختیار’ رکھا گیا، یعنی ‘اچھی قسمت والا’۔
18. ‘باغ و بہار’ کا سنِ تصنیف کیا ہے؟
(الف) 1757ء
(ب) 1803ء
(ج) 1857ء
(د) 1901ء
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) 1803ء
وضاحت: میر امن نے “باغ و بہار” کو 1801ء میں لکھنا شروع کیا اور یہ 1802ء کے آخر یا 1803ء کے شروع میں مکمل ہوئی۔ اس کی پہلی اشاعت 1803ء میں کلکتہ سے ہوئی۔
19. بادشاہ آزاد بخت کے کردار سے کیا اخلاقی سبق ملتا ہے؟
(الف) بادشاہ کو ہمیشہ جنگ کرنی چاہیے
(ب) صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
(ج) وزیروں پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے
(د) دولت ہی سب کچھ ہے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
وضاحت: آزاد بخت کی پریشانی اور پھر اس کا حل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو مشکل وقت میں صبر سے کام لینا چاہیے اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
20. ‘قصۂ چہار درویش’ کس سے منسوب ہے؟
(الف) سعدی شیرازی
(ب) حافظ شیرازی
(ج) امیر خسرو
(د) فردوسی
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) امیر خسرو
وضاحت: روایتی طور پر فارسی کتاب “قصۂ چہار درویش” کو مشہور صوفی شاعر اور موسیقار حضرت امیر خسرو سے منسوب کیا جاتا ہے، اگرچہ اس پر محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
21. وزیر خردمند نے بادشاہ کی اداسی دیکھ کر سب سے پہلے کیا کیا؟
(الف) ایک کہانی سنائی
(ب) اسے ملک سے باہر جانے کو کہا
(ج) اسے دربار سے برخاست کر دیا
(د) اسے غصہ دکھایا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (الف) ایک کہانی سنائی
وضاحت: جب بادشاہ نے اپنی بے اولادی کا غم بیان کیا تو وزیر خردمند نے اسے تسلی دینے اور امید دلانے کے لیے پہلے ایک تمثیلی کہانی سنائی۔
22. داستان کی زبان کے مطابق، بادشاہ نے کس لباس میں شہر کا گشت کیا؟
(الف) شاہی لباس میں
(ب) سوداگروں کے بھیس میں
(ج) فقیروں کے لباس میں
(د) سپاہی کے لباس میں
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) سوداگروں کے بھیس میں
وضاحت: داستان میں بیان ہے کہ بادشاہ رات کو سوداگروں کا سا بھیس بدل کر دو خدمت گاروں کے ساتھ گشت کے لیے نکلتا تھا۔
23. چاروں درویش قبرستان میں کس چیز پر بیٹھے تھے؟
(الف) ایک چٹائی پر
(ب) ایک قالین پر
(ج) ایک غالیچے پر
(د) گھاس پر
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) ایک غالیچے پر
وضاحت: متن کے مطابق، چاروں فقیر ایک غالیچے پر بیٹھے تھے اور ان کے چہروں سے شرافت اور پریشانی دونوں ظاہر تھیں۔
24. پہلے درویش نے اپنی کہانی سنانے سے پہلے کیا شرط رکھی؟
(الف) کہ کوئی اسے ٹوکے گا نہیں
(ب) کہ سب اسے انعام دیں گے
(ج) کہ پہلے سب حقہ پئیں گے
(د) کہ کوئی جھوٹ نہیں بولے گا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) کہ پہلے سب حقہ پئیں گے
وضاحت: جب پہلے درویش کی باری آئی تو اس نے کہا کہ پہلے “دم لو اور حقہ پیو” تاکہ کچھ ہوش و حواس ٹھکانے آئیں، پھر میں اپنی کہانی شروع کرتا ہوں۔
25. بادشاہ کی پریشانی کا سبب یہ تھا کہ اس کے بعد اس کا کوئی _______ نہ تھا۔
(الف) دوست
(ب) وزیر
(ج) نام لیوا
(د) دشمن
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) نام لیوا
وضاحت: “نام لیوا” کا مطلب ہے نام لینے والا یا وارث۔ بادشاہ کو یہ غم تھا کہ اس کی وفات کے بعد اس کی سلطنت کا کوئی وارث نہیں ہو گا جو اس کا نام زندہ رکھے۔
26. “باغ و بہار” نے اردو نثر کو کس چیز سے آزاد کرایا؟
(الف) سادگی اور سلاست سے
(ب) مقفٰی اور مسجع عبارت سے
(ج) عربی الفاظ سے
(د) فارسی الفاظ سے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) مقفٰی اور مسجع عبارت سے
وضاحت: میر امن سے پہلے اردو نثر پر فارسی کا گہرا اثر تھا اور عبارت کو مقفٰی (قافیہ والی) اور مسجع (سجی ہوئی) بنانے کا رواج تھا۔ “باغ و بہار” نے اس مشکل پسندی کو ختم کر کے سادہ اور عام فہم نثر کو رواج دیا۔
27. بادشاہ آزاد بخت کے دور کو کیسا بیان کیا گیا ہے؟
(الف) ظلم و ستم کا دور
(ب) امن و انصاف کا دور
(ج) قحط اور غربت کا دور
(د) جنگ و جدل کا دور
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) امن و انصاف کا دور
وضاحت: داستان کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ آزاد بخت ایک عادل اور انصاف پسند بادشاہ تھا، اس کے دور میں رعایا خوشحال تھی اور “شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے”۔
28. درویشوں کو دیکھ کر بادشاہ کے دل میں کیا خیال آیا؟
(الف) انہیں گرفتار کر لیا جائے
(ب) ان کا حال پوچھا جائے
(ج) انہیں نظر انداز کر دیا جائے
(د) انہیں بھگا دیا جائے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) ان کا حال پوچھا جائے
وضاحت: جب بادشاہ نے درویشوں کو دیکھا تو اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ ان سے ان کی پریشانی کا سبب پوچھا جائے، شاید یہ اللہ کے نیک بندے ہوں اور ان کی صحبت سے کچھ فائدہ ہو۔
29. میر امن کا تعلق ہندوستان کے کس شہر سے تھا؟
(الف) لکھنؤ
(ب) آگرہ
(ج) کلکتہ
(د) دہلی
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (د) دہلی
وضاحت: میر امن دہلی کے رہنے والے تھے، اسی لیے ان کی زبان پر دہلی کی ٹکسالی بولی کا گہرا اثر ہے۔ ان کا پورا نام میر محمد امان تھا۔
30. شہزادہ بختیار کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا؟
(الف) وہ بیمار ہو گیا
(ب) اسے ایک سوداگر اغوا کر کے لے گیا
(ج) اسے ایک پری اٹھا کر لے گئی
(د) وہ دریا میں ڈوب گیا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) اسے ایک پری اٹھا کر لے گئی
وضاحت: داستان میں آگے چل کر یہ واقعہ آتا ہے کہ جب شہزادہ بختیار چودہ برس کا ہوا تو ایک دن اسے ایک پری اٹھا کر لے جاتی ہے، جس سے بادشاہ دوبارہ غم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
31. “شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے”۔ یہ محاورہ کس بات کی علامت ہے؟
(الف) شدید قحط
(ب) مکمل انصاف اور امن
(ج) افراتفری اور انتشار
(د) جانوروں کی دوستی
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) مکمل انصاف اور امن
وضاحت: یہ محاورہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بادشاہ کا انصاف اتنا کامل تھا کہ طاقتور (شیر) کمزور (بکری) پر ظلم نہیں کرتا تھا اور ہر طرف امن و امان تھا۔
32. فورٹ ولیم کالج کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
(الف) ہندوستانیوں کو انگریزی سکھانا
(ب) انگریزوں کو ہندوستانی زبانیں سکھانا
(ج) سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا
(د) مذہبی تعلیم دینا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) انگریزوں کو ہندوستانی زبانیں سکھانا
وضاحت: فورٹ ولیم کالج ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے انگریز ملازمین اور افسران کو ہندوستان کی مقامی زبانوں (خاص طور پر اردو، ہندی، فارسی) اور ثقافت سے آگاہ کرنے کے لیے قائم کیا تھا۔
33. بادشاہ نے درویشوں کی کہانی سننے کا فیصلہ کیوں کیا؟
(الف) وقت گزاری کے لیے
(ب) جاسوسی کرنے کے لیے
(ج) یہ جاننے کے لیے کہ وہ بھی اسی کی طرح مصیبت زدہ ہیں
(د) انہیں انعام دینے کے لیے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) یہ جاننے کے لیے کہ وہ بھی اسی کی طرح مصیبت زدہ ہیں
وضاحت: جب بادشاہ نے ان کی گفتگو سنی تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ سب بھی اس کی طرح دکھ اور مصیبت کے مارے ہوئے ہیں۔ اس نے سوچا کہ ان کی کہانی سن کر شاید اس کے اپنے غم کا بوجھ ہلکا ہو۔
34. “باغ و بہار” کا نام کس نے تجویز کیا؟
(الف) میر امن نے خود
(ب) ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے
(ج) امیر خسرو نے
(د) نواب آصف الدولہ نے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے
وضاحت: کہا جاتا ہے کہ جب میر امن نے یہ کتاب مکمل کی تو ڈاکٹر جان گلکرسٹ اس کی زبان کی سادگی اور خوبصورتی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس کا نام “باغ و بہار” تجویز کیا اور میر امن کو انعام سے بھی نوازا۔
35. آزاد بخت کس بات پر “آب دیدہ” ہو جاتا تھا؟
(الف) اپنی رعایا کی غربت پر
(ب) اپنی بے اولادی کے خیال پر
(ج) اپنے وزیر کی باتوں پر
(د) جنگ میں شکست پر
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) اپنی بے اولادی کے خیال پر
وضاحت: “آب دیدہ” ہونے کا مطلب ہے آنکھوں میں آنسو بھر آنا۔ جب بھی بادشاہ کو اپنی بے اولادی کا خیال آتا تو وہ غمگین ہو کر رو پڑتا تھا۔
36. داستان میں مافوق الفطرت عناصر سے کیا مراد ہے؟
(الف) بادشاہ اور وزیر
(ب) جن، پری، دیو اور جادو
(ج) جنگ اور محبت
(د) تاریخی واقعات
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) جن، پری، دیو اور جادو
وضاحت: داستانوں کی ایک اہم خصوصیت ان میں مافوق الفطرت (Supernatural) عناصر کا ہونا ہے۔ “باغ و بہار” میں بھی جن، پریوں اور جادوئی واقعات کا ذکر ملتا ہے۔
37. وزیر نے بادشاہ کو کس چیز سے منع کیا؟
(الف) اللہ کی رحمت سے ناامید ہونے سے
(ب) شکار پر جانے سے
(ج) شادی کرنے سے
(د) خزانہ خرچ کرنے سے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (الف) اللہ کی رحمت سے ناامید ہونے سے
وضاحت: خردمند نے بادشاہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ “خدا کی درگاہ سے مایوس ہونا کفر ہے” اور اسے اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھنے کی تلقین کی۔
38. پہلا درویش کس ملک کے شہزادے کا بیٹا تھا؟
(الف) روم
(ب) یمن
(ج) فارس
(د) چین
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) یمن
وضاحت: جب پہلا درویش اپنی کہانی شروع کرتا ہے تو بتاتا ہے کہ وہ ملکِ یمن کے ایک بڑے سوداگر، خواجہ احمد کا بیٹا تھا۔ (نوٹ: یہ سوال پہلے درویش کی کہانی سے متعلق ہے جو آزاد بخت سنتا ہے)
39. بادشاہ نے درویشوں سے ملنے کے لیے کیا کیا؟
(الف) انہیں اپنے محل میں بلوایا
(ب) ان کے پاس خود فقیر بن کر گیا
(ج) وزیر کو ان کے پاس بھیجا
(د) اگلے دن ان سے ملاقات کی
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (الف) انہیں اپنے محل میں بلوایا
وضاحت: ان کی کہانیاں سننے کے بعد جب صبح ہوئی تو بادشاہ محل واپس آیا اور اپنے وزیر کو حکم دیا کہ ان چاروں درویشوں کو عزت و اکرام کے ساتھ محل میں حاضر کیا جائے۔
40. “تک بندی” کا کیا مطلب ہے؟
(الف) مضبوط عمارت
(ب) قافیہ پیمائی، بے معنی شاعری
(ج) قسمت کا لکھا
(د) سچ بولنا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) قافیہ پیمائی، بے معنی شاعری
وضاحت: “تک بندی” سے مراد ایسی تحریر یا شاعری ہے جس میں صرف قافیے ملانے کا خیال رکھا جائے اور معنی یا گہرائی پر توجہ نہ دی جائے۔ میر امن نے اپنی نثر کو اس تک بندی سے پاک رکھا۔
41. آزاد بخت نے وزیر سے کیا کہا جب وہ بہت زیادہ غمگین تھا؟
(الف) “میرا دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں نکل جاؤں۔”
(ب) “تمہیں وزارت سے برخاست کیا جاتا ہے۔”
(ج) “ملک کا خزانہ خالی ہو گیا ہے۔”
(د) “مجھے ایک اور شادی کرنی ہے۔”
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (الف) “میرا دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں نکل جاؤں۔”
وضاحت: اپنی مایوسی کے عالم میں بادشاہ نے وزیر خردمند سے کہا کہ اس کا دل سلطنت اور دنیا سے بھر گیا ہے اور وہ سب کچھ تیاگ کر کسی جنگل یا پہاڑ پر جا کر اللہ کی عبادت میں زندگی گزارنا چاہتا ہے۔
50. میر امن کی زبان کو “ٹکسالی زبان” کیوں کہا جاتا ہے؟
(الف) کیونکہ یہ سکّوں پر لکھی جاتی تھی
(ب) کیونکہ یہ مستند، معیاری اور اہل زبان کی بولی تھی
(ج) کیونکہ یہ بہت مشکل تھی
(د) کیونکہ اس میں بہت سے محاورے تھے
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) کیونکہ یہ مستند، معیاری اور اہل زبان کی بولی تھی
وضاحت: ‘ٹکسال’ وہ جگہ ہے جہاں معیاری سکے ڈھالے جاتے ہیں۔ اسی مناسبت سے، دہلی کی اس زبان کو ‘ٹکسالی زبان’ کہا جاتا ہے جسے اہل زبان معیاری اور مستند سمجھتے تھے۔ میر امن نے اسی زبان کو اپنی نثر کی بنیاد بنایا۔
60. بادشاہ نے جب درویشوں کو محل میں بلایا تو ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟
(الف) انہیں قید کر دیا
(ب) ان سے ان کی دولت کے بارے میں پوچھا
(ج) انہیں عزت دی اور ان کے لیے حمام اور عمدہ لباس کا انتظام کیا
(د) انہیں نظرانداز کر دیا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) انہیں عزت دی اور ان کے لیے حمام اور عمدہ لباس کا انتظام کیا
وضاحت: بادشاہ نے درویشوں کو شاہی مہمانوں کی طرح عزت دی۔ ان کے لیے غسل کا انتظام کیا، شاندار لباس دیے اور ان کی ہر طرح سے خاطر تواضع کی۔
75. داستان اور ناول میں بنیادی فرق کیا ہے؟
(الف) داستان لمبی ہوتی ہے، ناول چھوٹا ہوتا ہے
(ب) داستان میں مافوق الفطرت عناصر ہوتے ہیں، ناول حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہے
(ج) داستان صرف بادشاہوں کی کہانی ہے، ناول عام آدمی کی
(د) داستان میں شاعری ہوتی ہے، ناول میں نہیں
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) داستان میں مافوق الفطرت عناصر ہوتے ہیں، ناول حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہے
وضاحت: سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ داستانوں میں تخیلاتی اور غیر حقیقی دنیا (جن، پری، جادو) کا غلبہ ہوتا ہے جبکہ ناول کا مقصد عام طور پر حقیقی انسانی زندگی، معاشرتی مسائل اور نفسیات کی عکاسی کرنا ہوتا ہے۔
88. ‘باریاب ہونا’ کا کیا مطلب ہے؟
(الف) کامیاب ہونا
(ب) بارش ہونا
(ج) کسی بڑی شخصیت کے حضور پیش ہونے کی اجازت ملنا
(د) بیمار پڑنا
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ج) کسی بڑی شخصیت کے حضور پیش ہونے کی اجازت ملنا
وضاحت: جب درویشوں کو بادشاہ آزاد بخت کے دربار میں لایا گیا تو وہ بادشاہ کے حضور ‘باریاب ہوئے’، یعنی انہیں بادشاہ سے ملنے کی اجازت ملی۔
100. آزاد بخت کی کہانی کا اختتام کس بات پر ہوتا ہے؟
(الف) بادشاہ کی موت پر
(ب) تمام درویشوں کے اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے اور بادشاہ کے بیٹے بختیار کے مل جانے پر
(ج) وزیر خردمند کی غداری پر
(د) ملکِ روم کی تباہی پر
تفصیلی جواب
صحیح جواب: (ب) تمام درویشوں کے اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے اور بادشاہ کے بیٹے بختیار کے مل جانے پر
وضاحت: “باغ و بہار” کا اختتام خوشی پر ہوتا ہے۔ تمام درویشوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں، بادشاہ آزاد بخت کو اس کا کھویا ہوا بیٹا بختیار واپس مل جاتا ہے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔