میر تقی میرؔ – پہلی 3 غزلیں (ردیف الف)
غزل 1: اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
1. اس غزل کے شاعر کون ہیں؟
جواب: (ج) میر تقی میر
تفصیل: یہ مشہور غزل خدائے سخن میر تقی میر کی ہے۔
2. “اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں” – اس مصرعے میں ‘تدبیریں’ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ب) کوششیں/منصوبے
تفصیل: تدبیر کے معنی منصوبہ بندی یا کوشش کے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں۔
3. اس غزل کا ردیف کیا ہے؟
جواب: (ج) کام کیا
تفصیل: ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہوتے ہیں جو قافیے کے بعد ہر شعر میں دہرائے جاتے ہیں۔ اس غزل میں ‘کام کیا’ ردیف ہے۔
4. شعر “عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن، دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں” کس غزل کا حصہ ہے؟
جواب: (الف) یہ میر کی غزل کا حصہ نہیں ہے
تفصیل: یہ مشہور شعر بہادر شاہ ظفر کا ہے۔ اکثر غلطی سے میر یا غالب سے منسوب کیا جاتا ہے۔
5. “دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا” – اس مصرعے کا مفہوم کیا ہے؟
جواب: (ب) دل کی بیماری نے مار ڈالا
تفصیل: ‘کام تمام کرنا’ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے ختم کر دینا یا مار ڈالنا۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کی بیماری نے آخرکار اس کی جان لے لی۔
غزل 2: اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
6. “اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا، لہو آتا ہے جب نہیں آتا” – اس شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟
جواب: (ج) غم کی شدت اتنی ہے کہ آنسو ختم ہو جائیں تو خون آنے لگتا ہے
تفصیل: یہ شعر غم کی انتہا کو بیان کرتا ہے، جہاں آنسوؤں کی جگہ آنکھوں سے لہو بہنے لگتا ہے۔
7. اس غزل کا قافیہ کونسا ہے؟
جواب: (ب) کب، جب
تفصیل: قافیہ وہ ہم آواز الفاظ ہیں جو ردیف سے پہلے آتے ہیں۔ اس غزل میں کب، جب، تب وغیرہ قافیے ہیں۔
8. لفظ ‘لہو’ کے کیا معنی ہیں؟
جواب: (ج) خون
تفصیل: ‘لہو’ اردو میں خون کو کہتے ہیں۔
غزل 3: دل سے شوقِ رخِ نکو نہ گیا
9. “رخِ نکو” کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ب) خوبصورت چہرہ
تفصیل: ‘رخ’ کا مطلب چہرہ اور ‘نکو’ کا مطلب اچھا یا خوبصورت ہے۔ یعنی محبوب کا حسین چہرہ۔
10. مقطع میں میرؔ کیا کہتے ہیں؟
جواب: (ج) وہ کعبہ تو گئے لیکن ان کا دل بت خانے کی طرف ہی رہا
تفصیل: مقطع ہے “کعبے گیا تو کیا ہوا اے میرؔ شیخ تو، دل تو رہا ہے ساکنِ بت خانہ مدت”۔ یعنی ظاہری طور پر تو وہ حاجی بن گئے لیکن دل محبوب کی یاد میں ہی اٹکا رہا۔
11. میر تقی میر کو کیا لقب دیا گیا ہے؟
جواب: (ب) خدائے سخن
تفصیل: میر تقی میر کو ان کی شاعری میں درد و غم کی گہرائی اور سادگی کی وجہ سے ‘خدائے سخن’ کہا جاتا ہے۔
مرزا رفیع سوداؔ – پہلی 2 غزلیں (ردیف الف)
غزل 1: جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے
12. “بیداد” کا مطلب کیا ہے؟
جواب: (ج) ظلم
تفصیل: بیداد کا مطلب ظلم و ستم ہے۔ شاعر محبوب سے کہہ رہا ہے کہ جس دن تم کسی اور پر ظلم کرو گے، اس دن مجھے بہت یاد کرو گے۔
13. اس غزل میں شاعر کا تخلص کیا ہے؟
جواب: (ج) سودا
تفصیل: غزل کے مقطع میں شاعر نے اپنا تخلص ‘سودا’ استعمال کیا ہے۔
14. “یہ عہد بہت ہم کو ناشاد کرو گے” – ‘ناشاد’ سے کیا مراد ہے؟
جواب: (ج) غمگین/ناخوش
تفصیل: شاد کا مطلب خوش اور ناشاد اس کا الٹ ہے، یعنی غمگین یا ناخوش۔
غزل 2: گزرا نہ عالمِ دلِ ناشاد سے جدا
15. “عالمِ دلِ ناشاد” کی ترکیب کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ب) غمگین دل کی دنیا/حالت
تفصیل: عالم کا مطلب دنیا یا حالت، دلِ ناشاد کا مطلب غمگین دل۔ یعنی غمگین دل کی کیفیت۔
16. سودا کس صنفِ سخن کے لیے زیادہ مشہور ہیں؟
جواب: (ج) قصیدہ اور ہجو
تفصیل: اگرچہ سودا نے بہترین غزلیں بھی کہی ہیں، لیکن ان کی اصل شہرت قصیدہ نگاری اور ہجو (طنزیہ شاعری) کی وجہ سے ہے۔
17. اس غزل کا ردیف کیا ہے؟
جواب: (الف) سے جدا
تفصیل: ہر شعر کے آخر میں ‘سے جدا’ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں، لہٰذا یہی ردیف ہے۔
مرزا غالبؔ – پہلی 3 غزلیں (ردیف الف)
غزل 1: نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
18. “نقش فریادی ہے” – اس ترکیب سے غالب کی کیا مراد ہے؟
جواب: (ب) ہر وجود اپنی فنا کی داستان سنا رہا ہے
تفصیل: غالب کے دیوان کی یہ پہلی غزل بہت مشکل ہے۔ اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کائنات کی ہر تصویر (نقش) اپنی تخلیق کرنے والے (خدا) کی شوخیِ تحریر کی شکایت کر رہی ہے کہ اسے عارضی کیوں بنایا گیا۔ ہر وجود اپنی فنا کی فریاد ہے۔
19. “کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا” – ‘کاغذی پیرہن’ سے کیا مراد ہے؟
جواب: (ب) مظلومیت کی علامت
تفصیل: قدیم ایران میں فریادی کاغذ کے کپڑے پہن کر بادشاہ کے دربار میں جاتے تھے۔ یہاں یہ فریادی ہونے کی علامت ہے۔
غزل 2: جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
20. اس شعر میں ‘قیس’ کس کا نام ہے؟
جواب: (ب) مجنوں کا
تفصیل: لیلیٰ کے عاشق کا اصل نام قیس تھا، جو عشق میں دیوانگی کی وجہ سے مجنوں مشہور ہوا۔
21. “بروئے کار آنا” محاورے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ب) کام پر لگنا / سامنے آنا
تفصیل: بروئے کار آنا کا مطلب ہے کسی مقصد کے لیے میدان میں اترنا یا کام آنا۔
غزل 3: کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کیا ہے
22. ‘مدعا’ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ج) مقصد / مطلب
تفصیل: مدعا کا مطلب ہے مقصد، مطلب یا اصل بات۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں اپنا حال بیان کرتا ہوں تو محبوب پوچھتا ہے کہ تمہارا مقصد کیا ہے۔
23. اس غزل کے مقطع میں غالب نے کیا کہا ہے؟
جواب: (د) وہ محبوب سے بس یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان سے یہ نہ پوچھے کہ ان کا مقصد کیا ہے
تفصیل: مقطع ہے “غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو، وہ سن کے یہ پوچھیں کہ یہ مدعا کیا ہے”۔ یعنی میرا حال سن کر بھی وہ یہی پوچھیں گے کہ آخر کہنا کیا چاہتے ہو۔
مرزا غالبؔ – پہلی 1 غزل (ردیف ی)
غزل 1: بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
24. اس غزل کا ردیف کیا ہے؟
جواب: (ج) ہونا
تفصیل: اس غزل کے ہر شعر کے آخر میں ‘ہونا’ کا لفظ آیا ہے، جو اس کا ردیف ہے۔
25. “آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا” – اس مصرعے میں غالب کیا فرق بتا رہے ہیں؟
جواب: (ب) آدمی (بشر) اور انسان (باصلاحیت) میں
تفصیل: غالب کے نزدیک صرف جسمانی طور پر آدمی ہونا کافی نہیں، بلکہ انسانیت، شعور اور اخلاق کا حامل ‘انسان’ بننا ایک بہت مشکل کام ہے۔
26. ‘دشوار’ کا متضاد کیا ہے؟
جواب: (ب) آساں
تفصیل: ‘دشوار’ کا مطلب مشکل ہوتا ہے، اس لیے اس کا متضاد ‘آساں’ ہے۔
مومن خان مومنؔ – پہلی 2 غزلیں (ردیف الف)
غزل 1: اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
27. “اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا، رنج راحت فزا نہیں ہوتا” – اس شعر میں ‘راحت فزا’ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ب) آرام بڑھانے والا
تفصیل: ‘راحت’ کا مطلب آرام اور ‘فزا’ کا مطلب بڑھانے والا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب پر میری محبت کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اس کی دی ہوئی تکلیف کبھی آرام دہ نہیں ہوتی۔
28. مومن کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
جواب: (ج) معاملہ بندی اور نازک خیالی
تفصیل: مومن اپنی غزلوں میں عشق و محبت کے معاملات کو نہایت نازک اور پیچیدہ انداز میں بیان کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
29. “تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا” – اس شعر کا مفہوم کیا ہے؟
جواب: (ج) دنیا میں ہر ناممکن کام ہو جاتا ہے، لیکن تم میرے نہ ہو سکے
تفصیل: شاعر حسرت کا اظہار کر رہا ہے کہ دنیا میں تو ہر طرح کے کام ہو جاتے ہیں، لیکن ایک تم ہی ہو جو میرے نہیں ہو سکے۔
غزل 2: وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
30. اس غزل کا بنیادی موضوع کیا ہے؟
جواب: (ج) ماضی کی یادیں اور وعدے
تفصیل: یہ غزل محبوب کو ماضی کے تعلقات، محبت اور وعدوں کی یاد دلانے کے بارے میں ہے۔
31. “وہی یعنی وعدہ نباہ کا” – ‘نباہ’ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ج) پورا کرنا / ساتھ دینا
تفصیل: نباہ کرنے کا مطلب ہے کسی رشتے یا وعدے کو قائم رکھنا اور پورا کرنا۔
وحشتؔ کلکتوی – پہلی 2 غزلیں (ردیف الف)
غزل 1: کچھ نہ پوچھو کہ کیا نہیں گزرا
32. وحشت کلکتوی کا اصل نام کیا تھا؟
جواب: (الف) رضا علی خان
تفصیل: وحشت کلکتوی کا اصل نام رضا علی خان تھا اور وہ ‘وحشت’ تخلص کرتے تھے۔
33. “کچھ نہ پوچھو کہ کیا نہیں گزرا، ایک صدمہ نیا نہیں گزرا” – شاعر اس شعر میں کیا کہہ رہا ہے؟
جواب: (ج) اس پر ہر طرح کی مصیبت آ چکی ہے، کوئی دکھ باقی نہیں رہا
تفصیل: شاعر کہتا ہے کہ مجھ سے مت پوچھو کہ مجھ پر کیا کیا نہیں بیتا، یعنی ہر ممکن دکھ اور صدمہ مجھ پر گزر چکا ہے۔
غزل 2: کوئی ہمدم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا
34. “ہمدم” کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ج) دوست / ساتھی
تفصیل: ہمدم کا مطلب ہے دوست، ساتھی، یا وہ شخص جو ہر دم ساتھ رہے۔
35. اس غزل میں شاعر کس کیفیت کا اظہار کر رہا ہے؟
جواب: (ب) تنہائی اور بے بسی
تفصیل: غزل کا مطلع “کوئی ہمدم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا” ہی شاعر کی شدید تنہائی، بے بسی اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔
متفرق سوالات (تمام شعراء)
36. میر کی شاعری میں سب سے نمایاں عنصر کیا ہے؟
جواب: (ج) درد و غم
تفصیل: میر کی شاعری کو “آہ” سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان کی شاعری میں درد، غم، اور سوز و گداز کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔
37. غالب کی مشکل پسندی کی وجہ کیا تھی؟
جواب: (الف) وہ فارسی شاعر بیدل سے متاثر تھے
تفصیل: غالب نے اپنے ابتدائی دور میں فارسی کے عظیم شاعر عبدالقادر بیدل کے انداز کی پیروی کی، جو اپنے پیچیدہ اور تہہ دار اسلوب کے لیے مشہور ہیں۔ اسی اثر کی وجہ سے غالب کی شاعری میں مشکل پسندی آئی۔
38. غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں؟
جواب: (ب) مطلع
تفصیل: غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوں، مطلع کہلاتا ہے۔
39. غزل کے آخری شعر کو کیا کہتے ہیں جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے؟
جواب: (الف) مقطع
تفصیل: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص (قلمی نام) استعمال کرتا ہے، مقطع کہلاتا ہے۔
40. مومن کے کس شعر کے بارے میں غالب نے کہا تھا کہ “اس ایک شعر کے بدلے میں اپنا پورا دیوان دینے کو تیار ہوں”؟
جواب: (ج) تم مرے پاس ہوتے ہو گویا / جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تفصیل: یہ مومن کا مشہور شعر ہے جس کی نازک خیالی اور معنی آفرینی کی داد مرزا غالب جیسی عظیم شخصیت نے بھی دی تھی۔
41. سودا کا دور کس مغل بادشاہ کے زوال کا دور تھا؟
جواب: (ب) محمد شاہ رنگیلا اور اس کے بعد کے حکمران
تفصیل: سودا نے مغل سلطنت کے زوال کا دور دیکھا، جب دہلی بار بار بیرونی حملوں اور اندرونی خلفشار کا شکار ہو رہی تھی۔ ان کی شاعری میں اس دور کی جھلک ملتی ہے۔
42. ‘پیرہن’ کا کیا مطلب ہے؟ (غالب کی غزل سے)
جواب: (ج) لباس/کپڑے
تفصیل: پیرہن فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب لباس یا کرتا ہے۔
43. میر تقی میر کہاں پیدا ہوئے؟
جواب: (ج) آگرہ
تفصیل: میر تقی میر آگرہ (اکبرآباد) میں پیدا ہوئے، لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزرا اور آخری ایام لکھنؤ میں بسر ہوئے۔
44. “جز” کا مطلب کیا ہے؟ (غالب کی غزل سے)
جواب: (ب) کے علاوہ/سوائے
تفصیل: “جز قیس” کا مطلب ہے “قیس کے علاوہ”۔ یہ لفظ ‘سوائے’ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
45. ‘ردیف’ کے لغوی معنی کیا ہیں؟
جواب: (ب) گھوڑے پر پیچھے بیٹھنے والا
تفصیل: ردیف کا لغوی معنی ہے “گھڑسوار کے پیچھے بیٹھنے والا”۔ شاعری کی اصطلاح میں یہ قافیے کے پیچھے (بعد) آتا ہے، اسی لیے اسے ردیف کہتے ہیں۔
46. میر کی غزل “اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں” میں ‘بیماریِ دل’ سے کیا مراد ہے؟
جواب: (ب) عشق
تفصیل: شاعری میں ‘دل کی بیماری’ یا ‘آزارِ دل’ سے مراد عموماً عشق کی بیماری ہوتی ہے۔
47. غالب کی غزل “نقش فریادی ہے” کا مقطع کیا ہے؟
جواب: (الف) اس میں مقطع نہیں ہے
تفصیل: دیوانِ غالب کے مطبوعہ نسخوں میں اس پہلی غزل میں مقطع شامل نہیں ہے۔
48. مومن کی غزل “اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا” کا قافیہ کیا ہے؟
جواب: (الف) ذرا، فزا
تفصیل: غزل کے مطلع “اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا، رنج راحت فزا نہیں ہوتا” میں ردیف ‘نہیں ہوتا’ سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ ‘ذرا’ اور ‘فزا’ قافیے ہیں۔
49. سودا نے دہلی چھوڑ کر کہاں سکونت اختیار کی؟
جواب: (د) لکھنؤ
تفصیل: دہلی کے حالات خراب ہونے پر سودا، میر اور دیگر بہت سے شعراء نے لکھنؤ کا رخ کیا جو اس وقت علم و ادب کا مرکز بن رہا تھا۔
50. غالب کا پورا نام کیا تھا؟
جواب: (ب) مرزا اسد اللہ خان غالب
تفصیل: غالب کا اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خان تھا۔ وہ پہلے ‘اسد’ تخلص کرتے تھے، بعد میں ‘غالب’ تخلص اختیار کیا جو ان کی پہچان بنا۔ ‘مرزا نوشہ’ ان کا عرف تھا۔
51. میر کے شعر “عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند” میں ‘پیری’ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: (ج) بڑھاپا
تفصیل: ‘پیر’ کا مطلب بوڑھا اور ‘پیری’ کا مطلب بڑھاپا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جوانی رو کر گزاری اور بڑھاپے میں آنکھیں بند کر لیں (یعنی مر گئے)۔
52. غالب کے مطابق صحرا میں قیس (مجنوں) کے علاوہ اور کوئی کیوں سامنے نہ آیا؟
جواب: (ب) کیونکہ عشق کی وحشت ہر کسی کے بس کی بات نہیں
تفصیل: شعر ہے “جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار / صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حسود تھا”۔ غالب کہتے ہیں کہ صحرا تو حاسد کی آنکھ کی طرح تنگ تھا (یعنی عشق میں ہزاروں دعویدار تھے)، لیکن اس امتحان میں قیس کے سوا کوئی پورا نہ اتر سکا۔
53. مومن کی غزل “وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا” میں ‘حرفِ آشنا’ سے کیا مراد ہے؟
جواب: (الف) جان پہچان کی باتیں
تفصیل: ‘حرف’ کا مطلب بات اور ‘آشنا’ کا مطلب جاننے والا۔ یعنی وہ باتیں جو ہمارے درمیان مشترک تھیں اور جن سے ہم ایک دوسرے کو پہچانتے تھے۔
54. وحشت کلکتوی کا تعلق کس شہر سے تھا، جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے؟
جواب: (ج) کلکتہ
تفصیل: ان کے تخلص کے ساتھ ‘کلکتوی’ کا لاحقہ ان کے شہر کلکتہ (موجودہ کولکتہ) سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
55. غزل کے سب سے اچھے شعر کو کیا کہا جاتا ہے؟
جواب: (ج) شاہ بیت یا بیت الغزل
تفصیل: غزل کے سب سے بہترین اور پسندیدہ شعر کو ناقدین کی اصطلاح میں شاہ بیت یا بیت الغزل کہا جاتا ہے۔
56. (سوال)
جواب:
تفصیل:
57. (سوال)
جواب:
تفصیل:
58. (سوال)
جواب:
تفصیل:
59. (سوال)
جواب:
تفصیل:
60. (سوال)
جواب:
تفصیل:
61. (سوال)
جواب:
تفصیل:
62. (سوال)
جواب:
تفصیل:
63. (سوال)
جواب:
تفصیل:
64. (سوال)
جواب:
تفصیل:
65. (سوال)
جواب:
تفصیل:
66. (سوال)
جواب:
تفصیل:
67. (سوال)
جواب:
تفصیل:
68. (سوال)
جواب:
تفصیل:
69. (سوال)
جواب:
تفصیل:
70. (سوال)
جواب:
تفصیل:
71. (سوال)
جواب:
تفصیل:
72. (سوال)
جواب:
تفصیل:
73. (سوال)
جواب:
تفصیل:
74. (سوال)
جواب:
تفصیل:
75. (سوال)
جواب:
تفصیل:
76. (سوال)
جواب:
تفصیل:
77. (سوال)
جواب:
تفصیل:
78. (سوال)
جواب:
تفصیل:
79. (سوال)
جواب:
تفصیل:
80. (سوال)
جواب:
تفصیل:
81. (سوال)
جواب:
تفصیل:
82. (سوال)
جواب:
تفصیل:
83. (سوال)
جواب:
تفصیل:
84. (سوال)
جواب:
تفصیل:
85. (سوال)
جواب:
تفصیل:
86. (سوال)
جواب:
تفصیل:
87. (سوال)
جواب:
تفصیل:
88. (سوال)
جواب:
تفصیل:
89. (سوال)
جواب:
تفصیل:
90. (سوال)
جواب:
تفصیل:
91. (سوال)
جواب:
تفصیل:
92. (سوال)
جواب:
تفصیل:
93. (سوال)
جواب:
تفصیل:
94. (سوال)
جواب:
تفصیل:
95. (سوال)
جواب:
تفصیل:
96. (سوال)
جواب:
تفصیل:
97. (سوال)
جواب:
تفصیل:
98. (سوال)
جواب:
تفصیل:
99. (سوال)
جواب:
تفصیل:
100. (سوال)
جواب:
تفصیل: