سوال 1: رشید احمد صدیقی کا خاکہ ‘محمد علی’ ان کی کس کتاب میں شامل ہے؟
تفصیلی وضاحت: یہ خاکہ رشید احمد صدیقی کی مشہور کتاب ‘گنجہائے گرانمایہ’ کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے مختلف نامور شخصیات کے خاکے لکھے ہیں۔
سوال 2: ‘گنجہائے گرانمایہ’ کے عنوان کا کیا مطلب ہے؟
تفصیلی وضاحت: ‘گنج’ کا مطلب خزانہ اور ‘گرانمایہ’ کا مطلب قیمتی یا انمول ہے۔ اس طرح اس کا مطلب ‘قیمتی خزانے’ ہے، جس سے مراد وہ شخصیات ہیں جن پر خاکے لکھے گئے ہیں۔
سوال 3: رشید احمد صدیقی نے محمد علی کو کس چیز کا ‘ہرکارہ’ قرار دیا ہے؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی نے محمد علی جوہر کی پرجوش، بے باک اور انقلابی شخصیت کی وجہ سے انہیں ‘طوفان کا ہرکارہ’ کہا ہے۔
سوال 4: مولانا محمد علی جوہر نے انگریزی میں کون سا مشہور اخبار جاری کیا؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی جوہر نے 1911 میں کلکتہ سے انگریزی ہفت روزہ ‘کامریڈ’ جاری کیا، جو بعد میں دہلی منتقل ہو گیا۔ یہ اخبار اپنی بے باک صحافت کی وجہ سے بہت مشہور ہوا۔
سوال 5: مولانا محمد علی جوہر کا اردو اخبار کون سا تھا؟
تفصیلی وضاحت: ‘کامریڈ’ کی کامیابی کے بعد، مولانا نے عوام تک اپنی بات پہنچانے کے لیے 1913 میں دہلی سے اردو روزنامہ ‘ہمدرد’ شروع کیا۔
سوال 6: رشید احمد صدیقی کے مطابق محمد علی کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف کیا تھا؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی نے اپنے خاکے میں بار بار محمد علی کی شخصیت کے ان پہلوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک، پرجوش اور اپنے مقصد کے ساتھ مخلص رہتے تھے۔
سوال 7: محمد علی کس مشہور تحریک کے روح رواں تھے؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی (جو علی برادران کے نام سے مشہور تھے) ہندوستان میں تحریک خلافت کے سب سے بڑے رہنما تھے۔
سوال 8: رشید احمد صدیقی کا تعلق کس تعلیمی ادارے سے تھا؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی نے اپنی پوری زندگی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریس و تحقیق میں گزاری اور وہیں شعبہ اردو کے سربراہ بھی رہے۔
سوال 9: محمد علی نے اپنی مشہور تقریر کس کانفرنس میں کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا’؟
تفصیلی وضاحت: یہ تاریخی الفاظ انہوں نے 1930 میں لندن میں منعقد ہونے والی پہلی گول میز کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران کہے تھے۔
سوال 10: مولانا محمد علی جوہر کی وفات کہاں ہوئی؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی جوہر کا انتقال 4 جنوری 1931 کو لندن میں گول میز کانفرنس کے دوران ہی ہو گیا تھا۔
سوال 11: مولانا محمد علی جوہر کو کہاں دفن کیا گیا؟
تفصیلی وضاحت: ان کی وصیت کے مطابق کہ وہ ایک غلام ملک میں دفن نہیں ہونا چاہتے، انہیں مسلمانوں کے مقدس شہر یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دفن کیا گیا۔
سوال 12: رشید احمد صدیقی نے محمد علی کی تقریر کو کس سے تشبیہ دی ہے؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی لکھتے ہیں کہ محمد علی کی تقریر ایک ایسے سیلاب کی طرح تھی جو ہر چیز کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا تھا، جو ان کی خطابت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 13: “محمد علی کی اردو دانی مسلم، لیکن ان کی انگریزی دانی ______ تھی”۔ خالی جگہ پر کریں:
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی نے خاکے میں لکھا ہے کہ اگرچہ ان کی اردو دانی پر سب متفق تھے، لیکن ان کی انگریزی پر عبور اس سے بھی بڑھ کر تھا، یعنی ‘مسلّم تر’ تھی۔
سوال 14: رشید احمد صدیقی کے مطابق، محمد علی کی زندگی کس چیز کا ‘مرقع’ تھی؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی نے محمد علی کی مسلسل جدوجہد، قید و بند اور سیاسی ہنگاموں سے بھری زندگی کو ‘اضطراب و انتشار’ کا مرقع قرار دیا ہے۔
سوال 15: “گنجہائے گرانمایہ” اردو ادب کی کس صنف سے تعلق رکھتی ہے؟
تفصیلی وضاحت: خاکہ نگاری وہ صنف ہے جس میں کسی شخصیت کی ظاہری اور باطنی خصوصیات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔ ‘گنجہائے گرانمایہ’ اردو خاکہ نگاری کا ایک شاہکار ہے۔
سوال 16: مولانا محمد علی جوہر کے بھائی کا کیا نام تھا جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی ‘علی برادران’ کے نام سے مشہور تھے اور تحریک خلافت میں دونوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔
سوال 17: رشید احمد صدیقی کس چیز کے لئے مشہور ہیں؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی کا شمار اردو کے صف اول کے طنز و مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں گہری فکر کے ساتھ ساتھ شگفتگی اور ظرافت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔
سوال 18: محمد علی کی پیدائش کس ریاست میں ہوئی؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی جوہر 1878 میں متحدہ ہندوستان کی ریاست رامپور میں پیدا ہوئے۔
سوال 19: رشید احمد صدیقی کے مطابق، محمد علی کی ناکامی بھی کس سے کم نہ تھی؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی ان کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ محمد علی کا مقصد اتنا بڑا تھا کہ اس راہ میں ان کی ناکامی بھی کسی عظیم فتح سے کم شان نہیں رکھتی تھی۔
سوال 20: محمد علی نے اعلیٰ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
تفصیلی وضاحت: انہوں نے ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے جہاں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تاریخ میں بی اے کیا۔
سوال 21: رشید احمد صدیقی نے کسے ‘ملت کا پاسباں’ کہا ہے؟
تفصیلی وضاحت: خاکے میں رشید احمد صدیقی نے محمد علی جوہر کو ان کی خدمات کی بنا پر ملت اسلامیہ ہند کا پاسباں اور نگہبان قرار دیا ہے۔
سوال 22: خاکے کے مطابق، محمد علی کی گفتگو میں کس چیز کا عنصر غالب تھا؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی بتاتے ہیں کہ محمد علی کی گفتگو بناوٹ سے پاک، بے ساختہ اور برجستہ ہوتی تھی۔ وہ جو محسوس کرتے تھے، فوراً کہہ دیتے تھے۔
سوال 23: محمد علی کا تخلص کیا تھا؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ‘جوہر’ تخلص کرتے تھے۔ ان کی شاعری بھی ان کی شخصیت کی طرح پرجوش اور انقلابی تھی۔
سوال 24: رشید احمد صدیقی کے نزدیک محمد علی کی سب سے بڑی کمزوری کیا تھی؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ محمد علی کی سب سے بڑی کمزوری اور سب سے بڑی طاقت ان کا خلوص تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر عملی سیاست کے تقاضے پورے نہ کر پاتے۔
سوال 25: محمد علی کس شخصیت سے بہت زیادہ متاثر تھے اور انہیں اپنا سیاسی رہنما مانتے تھے؟
تفصیلی وضاحت: اگرچہ محمد علی نے تحریک خلافت میں گاندھی جی کے ساتھ کام کیا، لیکن وہ بال گنگادھر تلک کی بے باک اور گرم جوش سیاست سے بہت متاثر تھے اور انہیں اپنا استاد مانتے تھے۔
سوال 26: رشید احمد صدیقی نے محمد علی کو “زندہ دلانِ علی گڑھ” میں کیا مقام دیا ہے؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی کے نزدیک علی گڑھ کی تاریخ میں محمد علی جوہر جیسی ہر دلعزیز، متحرک اور نمایاں شخصیت کوئی دوسری نہیں گزری۔
سوال 27: خاکے میں محمد علی کی کس جسمانی خصوصیت کا ذکر طنزیہ انداز میں کیا گیا ہے؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی نے محمد علی کے بھاری بھرکم جسم اور ان کی متحرک روح کے تضاد کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔
سوال 28: “وہ پیدا تو ہوئے تھے لیڈر لیکن بنا دیے گئے…” – صدیقی کے مطابق انہیں کیا بنا دیا گیا؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ محمد علی جیسی قائدانہ صلاحیتوں والی شخصیت کو حالات نے دوسروں کا پیروکار بنا دیا، خاص طور پر تحریک عدم تعاون کے دوران۔
سوال 29: رشید احمد صدیقی کے مطابق محمد علی کا ذہن کیسا تھا؟
تفصیلی وضاحت: یہ تشبیہہ محمد علی کے ذہن کی تخلیقی صلاحیت، زرخیزی اور کسی حد تک بے ترتیبی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ہر قسم کے خیالات پھلتے پھولتے تھے۔
سوال 30: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں کس کا نام نمایاں ہے؟
تفصیلی وضاحت: جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد علی گڑھ میں 1920 میں رکھی گئی اور اس کے بانیوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری شامل تھے۔ وہ اس کے پہلے وائس چانسلر بھی بنے۔
سوال 31: رشید احمد صدیقی نے محمد علی کی زندگی کو کس ڈرامے سے تشبیہ دی ہے؟
تفصیلی وضاحت: ان کی مسلسل جدوجہد، قربانیوں اور بالآخر اپنے مقصد کو پوری طرح حاصل کیے بغیر دنیا سے چلے جانے کو صدیقی نے ایک عظیم المیہ قرار دیا ہے۔
سوال 32: محمد علی کی والدہ کس نام سے مشہور تھیں؟
تفصیلی وضاحت: مولانا محمد علی اور شوکت علی کی والدہ، آبادی بانو بیگم، ‘بی اماں’ کے لقب سے پورے ہندوستان میں مشہور تھیں۔ انہوں نے تحریک خلافت اور آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔
سوال 33: “محمد علی کی موت بھی ان کی زندگی کی طرح ____ تھی”۔ خالی جگہ پر کریں۔
تفصیلی وضاحت: صدیقی کے مطابق، جس طرح ان کی زندگی جدوجہد اور عظمت کا نمونہ تھی، اسی طرح ان کی موت (لندن میں وفات اور یروشلم میں تدفین) بھی ایک شاندار اور عبرت آموز واقعہ تھا۔
سوال 34: خاکے میں کس شہر کا ذکر محمد علی کی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر بار بار آیا ہے؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی نے چونکہ خود علی گڑھ میں زندگی گزاری، اس لیے وہ محمد علی کی شخصیت کو علی گڑھ کے پس منظر میں دیکھتے ہیں، جہاں سے محمد علی نے تعلیم حاصل کی اور جو ان کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا۔
سوال 35: رشید احمد صدیقی کے اسلوب کی بنیادی خصوصیت کیا ہے؟
تفصیلی وضاحت: رشید احمد صدیقی کا اسلوب محض مزاح نہیں ہے، بلکہ اس میں گہری علمیت، شگفتگی اور معنی کی کئی تہیں پوشیدہ ہوتی ہیں، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
سوال 98: رشید احمد صدیقی کے مطابق، محمد علی کا وجود کس چیز کا مجموعہ تھا؟
تفصیلی وضاحت: صدیقی نے خاکے میں دکھایا ہے کہ محمد علی کی شخصیت میں کئی تضادات جمع تھے، جیسے بھاری جسم اور متحرک روح، غصہ اور خلوص، لیڈرشپ کی صلاحیت اور پیروکاری کی مجبوری۔
سوال 99: ‘کامریڈ’ اخبار کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
تفصیلی وضاحت: ‘کامریڈ’ کے پہلے شمارے کے اداریے میں محمد علی نے واضح کیا تھا کہ اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنا اور دونوں قوموں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دینا ہے۔
سوال 100: رشید احمد صدیقی نے خاکہ ‘محمد علی’ کے ذریعے کس بات پر زور دیا ہے؟
تفصیلی وضاحت: پورے خاکے کا مرکزی خیال محمد علی جوہر کی شخصیت کی انفرادیت، ان کے مقصد سے لگن، ان کے خلوص اور قوم کے لیے دی گئی ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔