حصہ اول: علامہ اقبال – مسجد قرطبہ
سوال 1: نظم “مسجد قرطبہ” کے شاعر کون ہیں؟
- الف) فیض احمد فیض
- ب) مرزا غالب
- ج) علامہ محمد اقبال
- د) اکبر الہ آبادی
تفصیل: “مسجد قرطبہ” علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم ہے جو ان کی کتاب “بال جبریل” میں شامل ہے۔
سوال 2: مسجد قرطبہ کس ملک میں واقع ہے؟
- الف) ترکی
- ب) اسپین
- ج) مراکش
- د) مصر
تفصیل: مسجد قرطبہ اسپین (اندلس) کے شہر قرطبہ میں واقع ہے۔ یہ اسلامی فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے۔
سوال 3: اقبال کے مطابق کون سی چیز فانی نہیں ہے؟
- الف) عقل
- ب) علم
- ج) عشق
- د) دولت
تفصیل: اقبال نے اس نظم میں فلسفہ پیش کیا ہے کہ دنیا کی ہر شے فانی ہے، لیکن “عشق” لافانی ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں: “عشق کے مضراب سے نغمۂ تارِ حیات”۔
سوال 4: نظم کا آغاز کس مصرع سے ہوتا ہے؟
- الف) ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوام
- ب) سلسلہ روز و شب، نقش گر حادثات
- ج) آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
- د) مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
تفصیل: نظم کا پہلا بند وقت اور زمانے کے فلسفے پر مبنی ہے، جس کی شروعات اس مصرع سے ہوتی ہے، جو وقت کے بہاؤ اور اس کے اثرات کو بیان کرتا ہے۔
سوال 5: اقبال نے مسجد قرطبہ کو کس چیز کا مظہر قرار دیا ہے؟
- الف) شاہی طاقت کا
- ب) مسلمانوں کے زوال کا
- ج) مرد مومن کے جلال و جمال کا
- د) صرف فن تعمیر کا
تفصیل: اقبال کے نزدیک مسجد قرطبہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ یہ ایک “مرد مومن” کے جذبہ عشق، اس کے کردار کی پختگی، اور اس کے جلال و جمال کا عملی نمونہ ہے۔
سوال 6: “رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت” – اس مصرع میں ‘خشت و سنگ’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) شاعری
- ب) موسیقی
- ج) مصوری
- د) فن تعمیر
تفصیل: ‘خشت’ کا مطلب اینٹ اور ‘سنگ’ کا مطلب پتھر ہے۔ یہ دونوں چیزیں فن تعمیر میں استعمال ہوتی ہیں۔
سوال 7: اقبال کے مطابق فن کا معجزہ کس چیز سے جنم لیتا ہے؟
- الف) عقل کی گہرائی سے
- ب) خون جگر سے
- ج) شاہی سرپرستی سے
- د) مغربی تقلید سے
تفصیل: اقبال کہتے ہیں: “معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود”۔ یعنی عظیم فنکاری سخت محنت اور سچی لگن (خون جگر) کا نتیجہ ہوتی ہے۔
سوال 8: نظم “مسجد قرطبہ” اقبال کی کس کتاب میں شامل ہے؟
- الف) بانگ درا
- ب) ضرب کلیم
- ج) ارمغان حجاز
- د) بال جبریل
تفصیل: “مسجد قرطبہ” علامہ اقبال کے دوسرے اردو شعری مجموعے “بال جبریل” کی سب سے اہم اور طویل نظموں میں سے ایک ہے۔
سوال 9: اقبال نے کس چیز کو “اصل حیات و ممات” کہا ہے؟
- الف) سلسلہ روز و شب
- ب) موت
- ج) زندگی
- د) امتحان
تفصیل: نظم کے پہلے بند میں اقبال کہتے ہیں: “سلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات”۔ یعنی دن اور رات کا یہ چکر ہی زندگی اور موت کی بنیاد ہے۔
سوال 10: اقبال نے وادیٔ کہسار میں کس چیز کو غرقِ شفق دیکھا؟
- الف) سورج
- ب) چاند
- ج) سحاب (بادل)
- د) ستارے
تفصیل: اقبال اسپین کے منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: “وادیِ کہسار میں غرقِ شفق ہے سحاب”۔
سوال 11: “تیرا جلال و جمال، مرد خدا کی دلیل” – یہاں ‘تیرا’ سے کون مراد ہے؟
- الف) خدا
- ب) شاعر خود
- ج) مسجد قرطبہ
- د) وقت
تفصیل: اس مصرع میں اقبال مسجد قرطبہ سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تیری شان و شوکت اور خوبصورتی اس بات کی دلیل ہے کہ اسے بنانے والا کوئی مردِ خدا تھا۔
سوال 12: اقبال نے ‘مردِ مسلماں’ کو کیسا قرار دیا ہے؟
- الف) نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
- ب) کافر کی موت
- ج) فقط عبادت گزار
- د) زمانے سے بے خبر
تفصیل: اقبال مرد مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ گفتگو میں نرم خو لیکن مقصد کے حصول کے لیے پرجوش اور سرگرم ہوتا ہے۔
سوال 13: نظم کے مطابق، کون سی قوم “آتشِ سوزاں” کی طرح ہے؟
- الف) عرب
- ب) عجم
- ج) ترک
- د) جرمن
تفصیل: اقبال نے عربوں کے جوش و جذبے اور ان کی انقلابی فطرت کو “آتشِ سوزاں” سے تشبیہ دی ہے۔
سوال 14: “عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰ” – اس مصرع کا مفہوم کیا ہے؟
- الف) عشق صرف فرشتوں اور نبیوں کے لیے ہے
- ب) عشق ایک مقدس اور پاکیزہ جذبہ ہے
- ج) عشق صرف ایک کہانی ہے
- د) عشق کمزور کر دیتا ہے
تفصیل: یہاں اقبال عشق کی عظمت بیان کر رہے ہیں کہ یہ جبرئیل کی قوتِ پرواز اور حضور اکرم ﷺ کے دل کی کیفیت کا نام ہے، یعنی یہ ایک انتہائی اعلیٰ اور مقدس جذبہ ہے۔
سوال 15: اقبال نے مسجد کے ستونوں کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟
- الف) کھجور کے درختوں سے
- ب) پہاڑوں کی چوٹیوں سے
- ج) آسمان کے تاروں سے
- د) صحرا کے ٹیلوں سے
تفصیل: اقبال کہتے ہیں “ہیں تہِ گردُوں ہنوز اس کے ستوں بے شمار” اور ان کی منظر کشی ایسی ہے جیسے صحرائے عرب کے کھجوروں کا ایک جنگل ہو۔
سوال 16: “مردِ خدا کا عمل ____ سے صاحبِ فروغ” – خالی جگہ پُر کریں۔
- الف) عقل
- ب) علم
- ج) عشق
- د) دولت
تفصیل: مکمل مصرع ہے: “مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحبِ فروغ”۔ یعنی اللہ کے بندے کا ہر کام عشق کی بدولت روشن اور تابندہ ہوتا ہے۔
سوال 17: اس نظم میں اقبال نے کس دریا کا ذکر کیا ہے؟
- الف) دریائے نیل
- ب) دریائے دجلہ
- ج) دریائے کبیر (Guadalquivir)
- د) دریائے راوی
تفصیل: مسجد قرطبہ دریائے کبیر کے کنارے واقع ہے۔ اقبال نظم میں کہتے ہیں: “آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی”۔
سوال 18: “آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر” کا کیا مطلب ہے؟
- الف) فن کے معجزے ہمیشہ رہتے ہیں
- ب) فن کے تمام کمالات عارضی اور ختم ہونے والے ہیں
- ج) ہنر سیکھنا فضول ہے
- د) فن صرف بادشاہوں کے لیے ہے
تفصیل: اقبال کہتے ہیں کہ دنیا کا ہر فن پارہ، چاہے وہ کتنا ہی بڑا معجزہ کیوں نہ لگے، آخرکار فنا ہو جانے والا ہے۔ دوام صرف عشق کو حاصل ہے۔
سوال 19: اقبال نے کس چیز کو “پیرِ فلک” (آسمان کا بوڑھا) کہا ہے؟
- الف) چاند
- ب) سورج
- ج) زمانہ
- د) ستارے
تفصیل: اقبال زمانے کی قدامت اور اس کے مسلسل سفر کو بیان کرنے کے لیے اسے “پیرِ فلک” سے تشبیہ دیتے ہیں۔
سوال 20: نظم کے آخر میں اقبال نے کس قسم کی امید کا اظہار کیا ہے؟
- الف) مسلمانوں کے دوبارہ زوال کا
- ب) دنیا کے خاتمے کا
- ج) ایک نئے اسلامی انقلاب اور نشاۃ الثانیہ کا
- د) اسپین پر دوبارہ قبضے کا
تفصیل: نظم کے آخری حصے میں اقبال پرامید ہیں کہ ملت اسلامیہ ایک بار پھر اپنے مرکز (عشق) کی طرف لوٹے گی اور ایک نیا انقلاب برپا کرے گی۔
سوال 21: “دستِ قضا میں وہ شمشیر کہ ہے کارگر” – یہاں ‘دستِ قضا’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) سپاہی کا ہاتھ
- ب) تقدیر کا ہاتھ
- ج) بادشاہ کا ہاتھ
- د) کاریگر کا ہاتھ
تفصیل: ‘قضا’ کا مطلب تقدیر یا فیصلہ ہے۔ ‘دستِ قضا’ سے مراد تقدیر کا ہاتھ ہے، جس میں مرد مومن ایک کارگر تلوار کی مانند ہے۔
سوال 22: نظم کا بنیادی موضوع کیا ہے؟
- الف) وقت، عشق اور خودی
- ب) صرف اسپین کی تاریخ
- ج) مسلمانوں کی جنگیں
- د) فنِ تعمیر کے اصول
تفصیل: یہ نظم محض ایک عمارت کا بیان نہیں بلکہ اس میں وقت کا فلسفہ، عشق کی لافانیت اور مرد مومن کے تصورِ خودی جیسے گہرے موضوعات بیان ہوئے ہیں۔
سوال 23: ‘صنعت گر’ کا کیا مطلب ہے؟
- الف) شاعر
- ب) کاریگر یا بنانے والا
- ج) تاجر
- د) سپاہی
تفصیل: ‘صنعت گر’ اس شخص کو کہتے ہیں جو کوئی چیز بناتا ہے، یعنی کاریگر یا فنکار۔ اقبال نے مسجد بنانے والوں کو ‘صنعت گر’ کہا ہے۔
سوال 24: اقبال نے “انقلاب” کا ذکر کس کے حوالے سے کیا ہے؟
- الف) جرمن قوم
- ب) روسی قوم
- ج) ملت اسلامیہ
- د) فرانسیسی قوم
تفصیل: نظم کے آخری حصے میں وہ ایک روحانی اور فکری انقلاب کی بات کرتے ہیں جس کا مرکز ملت اسلامیہ ہوگی۔ “دیکھ چکا المنی، شورشِ اصلاحِ دیں”۔
سوال 25: “عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام” – اس مصرعے میں کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟
- الف) عشق انسان کو مار دیتا ہے
- ب) عشق زندگی کی بنیاد ہے اور اسے کبھی موت نہیں آتی
- ج) عشق اور موت کا کوئی تعلق نہیں
- د) زندگی اور موت ایک ہی چیز ہیں
تفصیل: یہ مصرع نظم کے مرکزی خیال کو واضح کرتا ہے کہ جہاں ہر چیز فانی ہے، وہیں عشق ایک ایسی حقیقت ہے جو لافانی اور ابدی ہے۔
سوال 26: اقبال کے مطابق، مسجد قرطبہ کی فضا کیسی ہے؟
- الف) دلکش و دلپذیر
- ب) اداس اور غمگین
- ج) ہیبت ناک
- د) بے رنگ و بے بو
تفصیل: اقبال مسجد کی فضا کو “دلکشا و دلبرا” کہتے ہیں، یعنی دل کو کھینچنے والی اور پیاری لگنے والی۔
سوال 27: “کافرِ ہندی ہوں میں، دیکھ مرا ذوق و شوق” – اس مصرع میں اقبال خود کو ‘کافر’ کیوں کہہ رہے ہیں؟
- الف) وہ واقعی کافر ہو گئے تھے
- ب) مغرب کے نزدیک وہ ایک غیر مسلم ملک (ہند) سے تھے
- ج) وہ بت پرستی کی بات کر رہے ہیں
- د) یہ ایک شاعرانہ تعلی ہے جس میں وہ مسلمانوں کے جذبے کی کمی پر طنز کر رہے ہیں
تفصیل: یہاں ‘کافر’ سے مراد روایتی مذہبیت سے ہٹ کر عشق اور جذبے کی راہ اپنانے والا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ دیکھو، ایک “کافر” ہو کر بھی میرے دل میں اسلام کے شاہکاروں کے لیے کتنا عشق ہے۔
سوال 28: نظم میں “روحِ امیں” کسے کہا گیا ہے؟
- الف) حضرت محمد ﷺ کو
- ب) حضرت جبرئیل علیہ السلام کو
- ج) مسجد کے معمار کو
- د) شاعر کو
تفصیل: “روح الامین” حضرت جبرئیل علیہ السلام کا لقب ہے۔ اقبال کہتے ہیں “عشق دمِ جبرئیل”۔
سوال 29: اقبال نے کس چیز کو “تارِ حیات” کا نغمہ کہا ہے؟
- الف) عقل کے فلسفے کو
- ب) عشق کے مضراب کو
- ج) دولت کی ঝنकार کو
- د) علم کی باتوں کو
تفصیل: مصرع ہے “عشق کے مضراب سے نغمۂ تارِ حیات”۔ یعنی زندگی کے ساز سے نغمہ عشق کے مضراب (چوٹ) سے ہی پیدا ہوتا ہے۔
سوال 30: نظم “مسجد قرطبہ” کل کتنے بندوں پر مشتمل ہے؟
- الف) 5
- ب) 10
- ج) 8
- د) 12
تفصیل: یہ طویل نظم آٹھ بندوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر بند ایک الگ فکری اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔
سوال 31: “برگِ حشیش” کا کیا مطلب ہے؟
- الف) پھول کی پتی
- ب) بھنگ کا پتا
- ج) کتاب کا ورق
- د) سونے کا ورق
تفصیل: اقبال نے اہل یورپ کی تہذیب کو “برگِ حشیش” سے تشبیہ دی ہے، یعنی ایک ایسی تہذیب جو نشے کی طرح ہے اور جس میں کوئی حقیقی خوبی نہیں۔
سوال 32: “وادیٔ ایمن” کا تلمیحی اشارہ کس نبی کی طرف ہے؟
- الف) حضرت ابراہیمؑ
- ب) حضرت عیسیٰؑ
- ج) حضرت محمدؐ
- د) حضرت موسیٰؑ
تفصیل: وادی ایمن وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ کی تجلی نظر آئی تھی۔
سوال 33: “نقش کہن” سے اقبال کی کیا مراد ہے؟
- الف) پرانے زمانے کی عمارتیں
- ب) پرانے خیالات اور نظریات
- ج) پرانی کتابیں
- د) پرانے رسم و رواج
تفصیل: اقبال کہتے ہیں “نقش سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر”، جس سے ان کی مراد وہ تمام پرانے فن پارے اور عمارتیں ہیں جو عشق کے بغیر بنائے گئے ہوں۔
سوال 34: نظم کے مطابق، مردِ مومن کی اذانیں کیسی ہوتی ہیں؟
- الف) بہت بلند آواز میں
- ب) مشرق و مغرب میں تہلکہ ڈالنے والی
- ج) بہت سریلی
- د) خاموش
تفصیل: اقبال نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مرد مومن کی اذانیں ایک بار پھر مشرق و مغرب میں انقلاب برپا کر دیں گی۔
سوال 35: “تجھ کو پرکھتا ہے وہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ” – یہاں ‘وہ’ اور ‘یہ’ سے کون مراد ہیں؟
- الف) خدا اور انسان
- ب) مشرق اور مغرب
- ج) پتھر (معیار) اور زمانہ
- د) عقل اور عشق
تفصیل: مصرع ہے “تجھ کو پرکھتا ہے وہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ / سلسلۂ روز و شب، صیرفیِ کائنات”۔ یہاں ‘وہ’ سے مراد فن کا معیار (پتھر) ہے اور ‘یہ’ سے مراد زمانہ ہے جو ہر شے کو پرکھتا ہے۔
سوال 36: ‘صیرفیِ کائنات’ کا کیا مطلب ہے؟
- الف) کائنات کا خالق
- ب) کائنات کا خاتمہ
- ج) کائنات کا صراف (پرکھنے والا)
- د) کائنات کا بادشاہ
تفصیل: صراف اسے کہتے ہیں جو کھرے اور کھوٹے کی پہچان کرتا ہے۔ اقبال نے وقت کو “صیرفیِ کائنات” کہا ہے، جو ہر چیز کی اصلیت کو پرکھتا ہے۔
سوال 37: اقبال نے کس کی “شورش” کا ذکر کیا ہے جس سے فرنگیوں کے ہوش اڑ گئے؟
- الف) مارٹن لوتھر
- ب) کارل مارکس
- ج) نپولین
- د) مصطفی کمال اتاترک
تفصیل: اقبال کہتے ہیں “دیکھ چکا المنی، شورشِ اصلاحِ دیں”۔ اس میں اشارہ مارٹن لوتھر کی پروٹسٹنٹ اصلاحی تحریک کی طرف ہے جس نے یورپ میں ہلچل مچا دی تھی۔
سوال 38: “تیرے در و بام پر وادیِ ایمن کا نور” – ‘در و بام’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) دروازے اور چھت
- ب) زمین اور آسمان
- ج) اندر اور باہر
- د) روشنی اور اندھیرا
تفصیل: ‘در’ کا مطلب دروازہ اور ‘بام’ کا مطلب چھت ہے۔ یہ مسجد کی پوری عمارت کے لیے استعمال ہوا ہے۔
سوال 39: اقبال کے مطابق، عقل کی انتہا کیا ہے؟
- الف) بے یقینی
- ب) بے حضوری
- ج) علم
- د) عشق
تفصیل: اقبال کہتے ہیں کہ عقل انسان کو خدا سے دور لے جاتی ہے (بے حضوری)، جبکہ عشق انسان کو خدا کے قریب کرتا ہے (حضور)۔
سوال 40: “عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا / اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام” – اس کا مفہوم کیا ہے؟
- الف) عشق صرف موجودہ زمانے تک محدود ہے
- ب) عشق وقت اور زمانے کی قید سے آزاد ہے
- ج) عشق پرانے زمانے کی بات ہے
- د) مستقبل میں عشق ختم ہو جائے گا
تفصیل: اقبال یہاں عشق کی ابدیت اور لافانیت کا ذکر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، عشق کا کیلنڈر (تقویم) عام وقت کے پیمانوں سے ماورا ہے۔
سوال 41: نظم میں “رختِ سفر” باندھنے کا اشارہ کس کی طرف ہے؟
- الف) ترکِ وطن کرنے والوں کی طرف
- ب) دنیا سے جانے والے انسانوں کی طرف
- ج) حاجیوں کی طرف
- د) تاجروں کی طرف
تفصیل: “رختِ سفر باندھنا” ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے دنیا سے کوچ کرنے کی تیاری کرنا۔ اقبال فنا کے تصور کو واضح کرنے کے لیے یہ استعمال کرتے ہیں۔
سوال 42: اقبال نے مسجد قرطبہ کے گنبد و مینار کو کیسا قرار دیا ہے؟
- الف) بلند و بالا
- ب) سادہ و بے رنگ
- ج) پست و حقیر
- د) ٹوٹا پھوٹا
تفصیل: اقبال مسجد کی عظمت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس کے گنبد و مینار کو “بلند و بالائے افلاک” کہتے ہیں، یعنی آسمانوں سے بھی بلند۔
سوال 43: “لمحۂ جاوداں” (ابدی لمحہ) کسے کہا گیا ہے؟
- الف) موت کے لمحے کو
- ب) عشق میں گزرے ہوئے لمحے کو
- ج) پیدائش کے لمحے کو
- د) جوانی کے لمحے کو
تفصیل: اقبال کے مطابق، عشق عام وقت کے بہاؤ کو روک کر ایک لمحے کو ابدیت بخش دیتا ہے۔
سوال 44: اقبال کے نزدیک، ملت کی زندگی کا راز کیا ہے؟
- الف) دولت کی فراوانی
- ب) عسکری طاقت
- ج) عشقِ رسول اور اتحاد
- د) مغربی علوم کا حصول
تفصیل: نظم کے آخری حصے میں وہ واضح کرتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کی بقا اور عروج کا راز عشقِ رسول اور آپس کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔
سوال 45: “پیکرِ خاکی” سے کیا مراد ہے؟
- الف) مٹی کا مجسمہ
- ب) انسان کا جسم
- ج) روح
- د) فرشتہ
تفصیل: “پیکرِ خاکی” سے مراد انسان کا مٹی سے بنا ہوا جسم ہے، جو فانی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس فانی جسم میں عشق ایک لافانی روح پھونک دیتا ہے۔
سوال 46: یہ نظم کس بحر میں لکھی گئی ہے؟
- الف) بحر رمل مثمن محذوف
- ب) بحر ہزج
- ج) بحر متقارب
- د) بحر کامل
تفصیل: “مسجد قرطبہ” بحر رمل مثمن محذوف (فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُنْ فَاعِلُنْ) میں لکھی گئی ہے، جو اس کی موسیقی اور روانی میں اضافہ کرتی ہے۔
سوال 47: “قلب و نظر” کی جنگ میں کون فتح یاب ہوتا ہے؟
- الف) نظر (عقل)
- ب) قلب (عشق)
- ج) دونوں برابر رہتے ہیں
- د) کوئی نہیں
تفصیل: اقبال کے مطابق، عقل اور عشق (قلب و نظر) کی کشمکش میں حتمی فتح عشق کو ہی نصیب ہوتی ہے۔
سوال 48: نظم میں “مردِ حر” (آزاد مرد) کی کیا صفت بیان ہوئی ہے؟
- الف) وہ دولت کا غلام ہوتا ہے
- ب) وہ زمانے کا پابند نہیں ہوتا
- ج) وہ اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے
- د) وہ دوسروں کی تقلید کرتا ہے
تفصیل: مردِ حر وہ ہے جو اپنی خودی کو پہچان کر زمانے کی زنجیروں سے آزاد ہو جاتا ہے اور خود زمانہ اس کے تابع ہو جاتا ہے۔
سوال 49: اقبال نے “روحِ مسلماں” میں آج کیا چیز محسوس کی؟
- الف) وہی اضطراب
- ب) مکمل سکون
- ج) مایوسی
- د) بے حسی
تفصیل: نظم کے آخر میں اقبال کہتے ہیں کہ آج بھی مسلمان کی روح میں وہی بے چینی اور اضطراب موجود ہے جو ایک نئے دور کی آمد کا پیش خیمہ ہے۔
سوال 50: مسجد قرطبہ کی تعمیر کس کی یادگار ہے؟
- الف) مغلوں کی
- ب) عثمانیوں کی
- ج) اندلس کے مسلمانوں کی عظمت کی
- د) رومیوں کی
تفصیل: یہ مسجد اسپین میں مسلمانوں کے شاندار دورِ حکومت کی سب سے بڑی اور حسین یادگار ہے۔
حصہ دوم: فیض احمد فیض – ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
سوال 51: نظم “ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے” کے شاعر کون ہیں؟
- الف) علامہ اقبال
- ب) فیض احمد فیض
- ج) ناصر کاظمی
- د) احمد فراز
تفصیل: یہ نظم انقلابی اور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی مشہور نظموں میں سے ایک ہے۔
سوال 52: “تاریک راہیں” کس چیز کی علامت ہیں؟
- الف) رات کے اندھیرے کی
- ب) جہالت کی
- ج) ظلم اور جدوجہد کے کٹھن راستے کی
- د) گمنامی کی
تفصیل: “تاریک راہیں” سے مراد وہ مشکل اور پرخطر راستہ ہے جو انقلابی اور حق پرست لوگ ظلم اور ناانصافی کے خلاف اختیار کرتے ہیں۔
سوال 53: یہ نظم فیض نے کس کے نام منسوب کی ہے؟
- الف) بھگت سنگھ
- ب) فلسطینی مجاہدین
- ج) روزن برگ جوڑے (Rosenbergs)
- د) ویتنام کے عوام
تفصیل: فیض نے یہ نظم امریکی جوڑے ایتھل اور جولیئس روزن برگ کے نام منسوب کی تھی، جنہیں جاسوسی کے الزام میں 1953 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔
سوال 54: نظم میں “شہر” کس چیز کی علامت ہے؟
- الف) ایک حقیقی شہر
- ب) ایک مثالی اور پرامن معاشرہ
- ج) ایک ظالم اور بے حس معاشرہ
- د) دل
تفصیل: نظم میں “شہر” اس معاشرے کی علامت ہے جہاں حق کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور قربانی دینے والوں کو کوئی یاد نہیں کرتا۔
سوال 55: “تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم” – یہاں ‘تیرے’ سے کون مراد ہے؟
- الف) محبوبہ
- ب) آزادی یا انقلاب (محبوب کی علامت)
- ج) ماں
- د) وطن
تفصیل: فیض نے یہاں انقلابی مقصد (آزادی) کو محبوبہ کے روپ میں پیش کیا ہے، جس کے لیے جان قربان کی گئی۔
سوال 56: نظم کا بنیادی لہجہ کیسا ہے؟
- الف) خوشی اور مسرت کا
- ب) مایوسی اور شکست کا
- ج) مرثیے اور احتجاج کا
- د) طنز و مزاح کا
تفصیل: یہ نظم ایک مرثیہ ہے جو شہیدوں کی قربانی پر لکھا گیا ہے، لیکن اس میں مایوسی نہیں بلکہ ایک خاموش احتجاج اور امید کی کرن بھی موجود ہے۔
سوال 57: “دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے” – ‘دار’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) درخت
- ب) گھر
- ج) پھانسی کا تختہ
- د) تلوار
تفصیل: ‘دار’ کے معنی پھانسی کا تختہ ہیں۔ یہ مصرع ان قربانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انقلابیوں نے اپنی جان دے کر دیں۔
سوال 58: نظم کے مطابق، شہیدوں کی قربانی کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
- الف) ان کی قربانی رائیگاں جائے گی
- ب) لوگ انہیں بھول جائیں گے
- ج) ان کے خون سے نئے پھول کھلیں گے (انقلاب آئے گا)
- د) ظلم ہمیشہ قائم رہے گا
تفصیل: فیض پرامید ہیں کہ یہ قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد بنیں گی۔
سوال 59: “ہم نے جو خواب دیکھے تھے ان خواب کا” – یہاں کن خوابوں کا ذکر ہے؟
- الف) ذاتی اور نجی خواب
- ب) دولت مند بننے کے خواب
- ج) ایک منصفانہ اور آزاد معاشرے کے خواب
- د) بیرون ملک جانے کے خواب
تفصیل: یہاں ان اجتماعی خوابوں کا ذکر ہے جو ایک بہتر، مساوات پر مبنی، اور ظلم سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے دیکھے گئے تھے۔
سوال 60: نظم میں “قاتل” کون ہیں؟
- الف) صرف ایک شخص
- ب) پورا ظالم نظام اور اس کے کارندے
- ج) غیر ملکی دشمن
- د) ڈاکو اور چور
تفصیل: “قاتل” سے مراد کوئی ایک فرد نہیں بلکہ وہ پورا استحصالی نظام، حکومت اور معاشرہ ہے جو حق کی آواز کو دباتا ہے۔
سوال 61: “جن کے سینوں میں جلتے تھے محشر کے داغ” – اس مصرع میں ‘محشر کے داغ’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) قیامت کا خوف
- ب) محبت کی ناکامی کا غم
- ج) انقلاب کی شدید تڑپ اور آگ
- د) ذاتی دکھ اور پریشانیاں
تفصیل: ‘محشر کے داغ’ سے مراد وہ انقلابی جذبہ اور تڑپ ہے جو شہیدوں کے سینوں میں ایک طوفان کی طرح جل رہی تھی۔
سوال 62: ‘رختِ سفر’ کا کیا مطلب ہے؟
- الف) سفر کا لباس
- ب) سفر کا سامان
- ج) سفر کی تھکاوٹ
- د) سفر کا راستہ
تفصیل: رختِ سفر سے مراد سفر کا سامان ہے۔ نظم میں اس سے مراد وہ نظریات اور جذبات ہیں جو انقلابی اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔
سوال 63: نظم میں “صبح” کس چیز کی علامت ہے؟
- الف) دن کا آغاز
- ب) امید، انقلاب اور ایک نیا روشن دور
- ج) مایوسی کا خاتمہ
- د) نیند سے بیداری
تفصیل: فیض کی شاعری میں “صبح” اکثر ایک نئے، روشن اور منصفانہ دور کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے، جس کے لیے قربانیاں دی جا رہی ہیں۔
سوال 64: “قتل گہوں سے چن کر ہمارے علم” – یہاں ‘علم’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) کتابیں اور تعلیم
- ب) جھنڈے یا نشان
- ج) شہرت اور ناموری
- د) لاشیں
تفصیل: ‘علم’ کا مطلب جھنڈا بھی ہوتا ہے۔ یہاں اس سے مراد شہیدوں کے نظریات اور ان کی قربانی کا نشان ہے، جسے آنے والی نسلیں اٹھائیں گی۔
سوال 65: یہ نظم فیض کے کس شعری مجموعے میں شامل ہے؟
- الف) نقش فریادی
- ب) دست صبا
- ج) زنداں نامہ
- د) دست تہ سنگ
تفصیل: یہ نظم فیض کے تیسرے شعری مجموعے “زنداں نامہ” میں شامل ہے، جو زیادہ تر ان کے قید کے زمانے کی شاعری پر مشتمل ہے۔
سوال 66: “اور گمنام اجداد کی ہڈیوں پر نئے پھول آئیں گے” – اس مصرع کا مفہوم کیا ہے؟
- الف) قبروں پر پھول چڑھائے جائیں گے
- ب) پرانی نسل کو بھلا دیا جائے گا
- ج) شہیدوں کی گمنام قربانیوں کے نتیجے میں نئی نسل ایک بہتر مستقبل پائے گی
- د) تاریخ خود کو دہرائے گی
تفصیل: یہ مصرع اس امید کو ظاہر کرتا ہے کہ ان گمنام شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بلکہ انہی کی بنیاد پر ایک نیا اور خوشحال دور آئے گا۔
سوال 67: ‘متاع’ کا کیا مطلب ہے؟
- الف) نقصان
- ب) فائدہ
- ج) سرمایہ، پونجی، اثاثہ
- د) بازار
تفصیل: نظم میں “متاعِ دل و جاں” کا ذکر ہے، یعنی دل اور جان کی پونجی، جو انقلابیوں نے اپنے مقصد پر قربان کر دی۔
سوال 68: نظم میں شاعر نے اپنے ساتھیوں کو کس چیز کا “امین” (محافظ) قرار دیا ہے؟
- الف) دولت کا
- ب) رازوں کا
- ج) لوح و قلم کا (علم و دانش کا)
- د) طاقت کا
تفصیل: “ہم کہ تھے آشنا حرفِ حرمت کے بھی / اور امیں پاسبانوں کے لوح و قلم کے بھی”۔ اس سے مراد ہے کہ وہ صرف انقلابی نہیں بلکہ علم و فکر کے محافظ بھی تھے۔
سوال 69: فیض کی شاعری کس تحریک سے وابستہ ہے؟
- الف) علی گڑھ تحریک
- ب) ترقی پسند تحریک
- ج) رومانی تحریک
- د) جدیدیت
تفصیل: فیض احمد فیض ترقی پسند تحریک کے سب سے نمایاں شاعروں میں سے تھے، جس کا مقصد ادب کے ذریعے سماجی اور سیاسی بیداری پیدا کرنا تھا۔
سوال 70: “کچھ محبت کی خاطر، کچھ مروت کی خاطر” – ان قربانیوں کا مقصد کیا تھا؟
- الف) ذاتی محبت اور لحاظ
- ب) انسانیت سے محبت اور اصولوں کی پاسداری
- ج) صرف اپنی محبوبہ کے لیے
- د) معاشرے میں عزت پانے کے لیے
تفصیل: یہاں “محبت” سے مراد انسانیت سے محبت اور “مروت” سے مراد اصولوں اور اقدار کی پاسداری ہے، جن کی خاطر یہ قربانیاں دی گئیں۔
سوال 71: نظم کے مطابق، شہر کے لوگ کیسے ہیں؟
- الف) بہت ہمدرد اور قدردان
- ب) قاتل اور مقتول دونوں سے ناواقف
- ج) صرف قاتلوں کے حمایتی
- د) صرف مقتولوں کے حمایتی
تفصیل: فیض کہتے ہیں “شہر کے لوگ بھی قاتل و مقتول سے / اب کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں”۔ یہ معاشرے کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 72: “کوچۂ دلبراں” سے کیا مراد ہے؟
- الف) دوستوں کی گلی
- ب) محبوب کی گلی
- ج) بازار
- د) تنگ گلی
تفصیل: یہ ایک کلاسیکی استعارہ ہے جو محبوب کی گلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فیض نے اسے انقلابی مقصد کے راستے کے لیے استعمال کیا ہے۔
سوال 73: نظم میں “حرفِ غزل” کس کی پہچان نہیں ہے؟
- الف) شہیدوں کی
- ب) شاعروں کی
- ج) قاتلوں کی
- د) عاشقوں کی
تفصیل: فیض قاتلوں کے بارے میں کہتے ہیں “جن کے ہونٹوں پہ حرفِ غزل نہ تھا / آشنا صرف قہر و غضب سے تھے”۔ یعنی وہ محبت اور نرمی کی زبان نہیں سمجھتے۔
سوال 74: “ہم جو پالے گئے تھے بہاروں میں بھی” – اس مصرع کا کیا مطلب ہے؟
- الف) وہ صرف بہار کے موسم میں پیدا ہوئے تھے
- ب) انہوں نے آرام اور خوشحالی کے دن بھی دیکھے تھے
- ج) وہ باغوں میں رہتے تھے
- د) وہ بہت نازک تھے
تفصیل: اس سے مراد یہ ہے کہ انقلابی لوگ صرف دکھ جھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے، بلکہ انہوں نے بھی زندگی کی خوبصورتی اور خوشیاں دیکھی تھیں، لیکن مقصد کی خاطر انہیں قربان کر دیا۔
سوال 75: نظم کا اختتام کس جذبے پر ہوتا ہے؟
- الف) شدید مایوسی
- ب) بدلے کی آگ
- ج) امید اور مستقبل پر یقین
- د) شکست کا اعتراف
تفصیل: نظم کا اختتام اس پرامید نوٹ پر ہوتا ہے کہ یہ قربانیاں ایک نئے اور روشن مستقبل کو جنم دیں گی، جہاں “نئے پھول آئیں گے”۔
سوال 76: “قہر و غضب” کس کی صفت بیان کی گئی ہے؟
- الف) انقلابیوں کی
- ب) عوام کی
- ج) ظالم حکمرانوں اور قاتلوں کی
- د) شاعر کی
تفصیل: فیض نے قاتلوں کو “آشنا صرف قہر و غضب سے” کہا ہے، یعنی وہ صرف غصے اور ظلم کی زبان جانتے ہیں۔
سوال 77: “خواب جو مر گئے” – ان خوابوں کے مرنے کا کیا مطلب ہے؟
- الف) خواب دیکھنے والے مر گئے
- ب) خواب پورے نہ ہو سکے
- ج) خواب جھوٹے تھے
- د) خوابوں کا ادھورا رہ جانا
تفصیل: اس سے مراد ہے کہ وہ خواب جن کے لیے جان دی گئی، وہ خواب دیکھنے والوں کی زندگی میں پورے نہ ہو سکے، لیکن ان کی بنیاد رکھ دی گئی۔
سوال 78: یہ نظم کس قسم کی شاعری کی بہترین مثال ہے؟
- الف) عشقیہ شاعری
- ب) صوفیانہ شاعری
- ج) مزاحمتی شاعری
- د) فطرت کی شاعری
تفصیل: یہ نظم ظلم کے خلاف مزاحمت اور قربانی کے جذبے کو اجاگر کرتی ہے، اس لیے یہ مزاحمتی شاعری (Resistance Poetry) کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔
سوال 79: “اور کچھ دن ابھی یہ نظارا رہے” – یہاں کس نظارے کی بات ہو رہی ہے؟
- الف) بہار کے نظارے کی
- ب) ظلم و ستم اور بے حسی کے موجودہ منظر کی
- ج) خوبصورت شہر کے نظارے کی
- د) آسمان کے نظارے کی
تفصیل: شاعر کہتا ہے کہ ابھی کچھ دن اور یہ ظلم، بے حسی اور ناانصافی کا دور باقی رہے گا، لیکن یہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔
سوال 80: ‘سروکار’ نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟
- الف) محبت ہونا
- ب) نفرت ہونا
- ج) کوئی تعلق یا واسطہ نہ ہونا
- د) مدد کرنا
تفصیل: “کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں” کا مطلب ہے کہ اب کسی کو کوئی دلچسپی یا واسطہ نہیں رہا، جو معاشرتی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 81: نظم میں “ہم” کا صیغہ کس کے لیے استعمال ہوا ہے؟
- الف) صرف شاعر کے لیے
- ب) تمام انسانوں کے لیے
- ج) ان تمام انقلابیوں اور شہیدوں کے لیے جو ایک مقصد کے لیے لڑے
- د) صرف روزن برگ جوڑے کے لیے
تفصیل: “ہم” کا صیغہ جمع متکلم ہے، جو شاعر نے ان تمام لوگوں کی نمائندگی کے لیے استعمال کیا ہے جنہوں نے حق اور انصاف کی راہ میں جان دی۔
سوال 82: “حرفِ حرمت” سے کیا مراد ہے؟
- الف) گالی گلوچ
- ب) عزت اور احترام کی بات
- ج) شاعری کا فن
- د) قانون کی زبان
تفصیل: “حرفِ حرمت” سے مراد وہ اصول، اقدار اور باتیں ہیں جو عزت و احترام پر مبنی ہوں۔ انقلابی ان اصولوں کے بھی پاسبان تھے۔
سوال 83: فیض کی شاعری کی بنیادی خصوصیت کیا ہے؟
- الف) غمِ جاناں اور غمِ دوراں کا امتزاج
- ب) صرف سیاسی موضوعات
- ج) خالص عشقیہ شاعری
- د) فلسفیانہ گہرائی
تفصیل: فیض کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ذاتی محبت (غمِ جاناں) اور زمانے کے دکھ (غمِ دوراں) کو آپس میں ملا کر پیش کرتے ہیں۔
سوال 84: “جب کھلی ان کی آنکھیں تو چاروں طرف / گھپ اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا” – اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
- الف) وہ نیند سے جاگے تھے
- ب) انہیں حقیقت کا ادراک ہوا تو ہر طرف ظلم اور ناامیدی تھی
- ج) وہ ایک تاریک کمرے میں بند تھے
- د) ان کی بینائی چلی گئی تھی
تفصیل: “آنکھیں کھلنا” ایک محاورہ ہے جس کا مطلب حقیقت سے آگاہ ہونا ہے۔ یہ مصرع انقلابیوں کی جدوجہد کے مشکل اور مایوس کن حالات کو بیان کرتا ہے۔
سوال 85: ‘مقتل’ کس جگہ کو کہتے ہیں؟
- الف) کھیل کا میدان
- ب) بازار
- ج) قتل ہونے کی جگہ
- د) عبادت گاہ
تفصیل: مقتل وہ مقام ہے جہاں کسی کو قتل کیا جائے۔ نظم میں “قتل گہوں” کا ذکر ہے، جو مقتل کی جمع ہے۔
سوال 86: نظم میں کس طبقے کی بے حسی پر طنز کیا گیا ہے؟
- الف) صرف حکمران طبقے
- ب) صرف غریب طبقے
- ج) پورے معاشرے، خاص طور پر متوسط طبقے کی
- د) فنکاروں کی
تفصیل: فیض کا طنز پورے معاشرے پر ہے جو انقلابیوں کی قربانیوں سے لاتعلق رہتا ہے اور اپنے روزمرہ کے معمولات میں گم ہے۔
سوال 87: “خونِ عشاق” سے کون سی روشنائی بنے گی؟
- الف) جو تاریخ لکھے گی
- ب) جو پھولوں کو رنگ دے گی
- ج) جو علم کو روشن کرے گی
- د) جو محبت کے خطوط لکھے گی
تفصیل: شاعر کہتا ہے “خونِ عشاق سے جاگے گی وہ روشنائی / جس سے گل رنگ ہوگا ہر اک خارِ دشتِ جنوں”۔ یعنی عاشقوں کے خون سے وہ روشنی پیدا ہوگی جو جنون کے صحرا کے ہر کانٹے کو پھول بنا دے گی۔
سوال 88: “ہم جو ٹوٹے ہوئے خوابوں کی حسرت لیے / قتل گاہوں میں آئے” – اس میں کون سا جذبہ نمایاں ہے؟
- الف) فتح کا جذبہ
- ب) مایوسی اور اداسی کا
- ج) بدلے کا جذبہ
- د) خوف کا جذبہ
تفصیل: یہ مصرع ان انقلابیوں کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جو اپنے خوابوں کو ٹوٹتا دیکھ کر بھی قربانی کے لیے پیش ہو گئے۔ اس میں ایک گہری حسرت اور اداسی پائی جاتی ہے۔
سوال 89: یہ نظم آزاد نظم کی ہیئت میں ہے یا پابند؟
- الف) پابند نظم
- ب) آزاد نظم
- ج) معریٰ نظم
- د) نثری نظم
تفصیل: یہ نظم آزاد نظم کی ہیئت میں لکھی گئی ہے، جس میں بحر کی پابندی تو ہوتی ہے لیکن قافیے اور ارکان کی تعداد ہر مصرعے میں مختلف ہو سکتی ہے۔
سوال 90: ‘پاسباں’ کا کیا مطلب ہے؟
- الف) قیدی
- ب) محافظ یا چوکیدار
- ج) مسافر
- د) رہنما
تفصیل: ‘پاسباں’ کا مطلب محافظ ہے۔ فیض کہتے ہیں کہ انقلابی لوح و قلم کے محافظ بھی تھے۔
سوال 91: “اور نکلیں گے عشاق کے قافلے” – اس مصرعے میں کیا پیش گوئی ہے؟
- الف) محبت کرنے والے ختم ہو جائیں گے
- ب) ظلم کے خلاف جدوجہد کا سلسلہ جاری رہے گا
- ج) لوگ سفر پر نکلیں گے
- د) قافلے لوٹ لیے جائیں گے
تفصیل: یہ مصرع اس امید اور یقین کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر ایک نسل قربان ہو بھی گئی تو ان کے بعد نئے لوگ اٹھیں گے اور جدوجہد کے اس قافلے کو آگے بڑھائیں گے۔
سوال 92: نظم کا عنوان “ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے” کیا ظاہر کرتا ہے؟
- الف) ایک حادثے کو
- ب) ایک المیے اور قربانی کو
- ج) ایک جنگ کو
- د) ایک سفر کو
تفصیل: عنوان ہی نظم کے مرکزی خیال کا خلاصہ ہے، جو ان لوگوں کی قربانی کو بیان کرتا ہے جنہوں نے ایک عظیم مقصد کے لیے تاریک اور مشکل راستوں پر اپنی جان دی۔
سوال 93: فیض نے کن دو متضاد چیزوں کو یکجا کیا ہے؟
- الف) رات اور دن
- ب) بہار اور خزاں
- ج) محبت اور انقلاب
- د) زندگی اور موت
تفصیل: فیض کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ وہ محبت کے رومانوی جذبے اور انقلاب کے سخت اور کٹھن راستے کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتے ہیں۔
سوال 94: “جن سے روشن تھی اس شہر کی ہر گلی” – یہاں ‘روشن’ ہونے سے کیا مراد ہے؟
- الف) بجلی کی روشنی
- ب) علم، فکر اور بیداری کی روشنی
- ج) دولت کی چمک دمک
- د) آگ کی روشنی
تفصیل: اس سے مراد ہے کہ یہ انقلابی لوگ اپنے نظریات اور اپنی جدوجہد سے معاشرے میں بیداری اور شعور کی روشنی پھیلا رہے تھے۔
سوال 95: اس نظم میں کون سی شعری صنعت نمایاں ہے؟
- الف) مبالغہ
- ب) حسنِ تعلیل
- ج) استعارہ اور علامت نگاری
- د) تجنیس
تفصیل: یہ نظم استعاروں اور علامتوں سے بھری ہوئی ہے۔ ‘تاریک راہیں’، ‘صبح’، ‘شہر’، ‘پھول’، ‘دار’ وغیرہ سب علامتی معنی رکھتے ہیں۔
سوال 96: “کچھ وفا کے لیے، کچھ جفا کے لیے” – یہاں ‘جفا’ سے کیا مراد ہے؟
- الف) دوستوں کا ظلم
- ب) محبوب کا ظلم
- ج) ظالم نظام کی طرف سے ہونے والا ظلم
- د) اپنی غلطیاں
تفصیل: یہاں ‘جفا’ سے مراد وہ ظلم و ستم ہے جو انقلابیوں پر ڈھایا گیا، اور انہوں نے اس ظلم کا سامنا بھی ایک اصول کے طور پر کیا۔
سوال 97: فیض نے اپنی نظم میں کن لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے؟
- الف) بادشاہوں اور حکمرانوں کو
- ب) گمنام اور فراموش کردہ انقلابی شہیدوں کو
- ج) مشہور شاعروں کو
- د) امیر لوگوں کو
تفصیل: اس نظم کا بنیادی مقصد ان گمنام ہیروز کو یاد کرنا اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہیں تاریخ اور معاشرہ بھلا چکا ہے۔
سوال 98: “وہ جو کہتے تھے… اور چپ چاپ ہی مارے گئے” – یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
- الف) ان کی بزدلی
- ب) ان کی خاموش اور پروقار قربانی
- ج) ان کی بے بسی
- د) ان کی سازش
تفصیل: یہ مصرع ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی شور و غوغا کے، انتہائی وقار کے ساتھ اپنے مقصد کے لیے جان دے دی۔
سوال 99: نظم کا پیغام کیا ہے؟
- الف) ظلم کے آگے سر جھکا دینا چاہیے
- ب) جدوجہد اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی
- ج) سیاست سے دور رہنا چاہیے
- د) محبت کرنا بیکار ہے
تفصیل: نظم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ حق کے لیے دی جانے والی قربانیاں کبھی ضائع نہیں ہوتیں اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
سوال 100: فیض کی اس نظم میں رومانیت اور حقیقت نگاری کا کیسا امتزاج ہے؟
- الف) صرف رومانیت ہے
- ب) صرف حقیقت نگاری ہے
- ج) دونوں کا حسین امتزاج ہے
- د) دونوں میں کوئی تعلق نہیں
تفصیل: فیض نے ‘تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت’ جیسی رومانی علامتوں کو ‘دار کی خشک ٹہنی’ جیسی تلخ حقیقتوں کے ساتھ ملا کر ایک منفرد اور پراثر شعری تجربہ تخلیق کیا ہے۔