QASIDA

Urdu Qasida MCQ Quiz

سوال 1: قصیدہ “ساون میں دیا پھر مہ شوال دکھائی” کے شاعر کون ہیں؟

صحیح جواب: (ج) مرزا محمد رفیع سودا

تفصیل: یہ مشہور قصیدہ مرزا محمد رفیع سودا نے لکھا ہے، جو اردو میں قصیدہ گوئی کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔

سوال 2: اس قصیدے کا مطلع کیا ہے؟

صحیح جواب: (ب) ساون میں دیا پھر مہ شوال دکھائی

تفصیل: قصیدے کا پہلا شعر، جو مطلع کہلاتا ہے، “ساون میں دیا پھر مہ شوال دکھائی” ہے۔ اسی سے قصیدے کا نام بھی ماخوذ ہے۔

سوال 3: اس قصیدے کی صنف کیا ہے؟

صحیح جواب: (ج) قصیدہ

تفصیل: یہ نظم اپنی ساخت اور موضوع کے اعتبار سے ایک قصیدہ ہے، جس میں تشبیب، گریز، مدح اور دعا کے اجزاء شامل ہیں۔

سوال 4: قصیدے کے ابتدائی حصے کو کیا کہتے ہیں جس میں شاعر تمہید باندھتا ہے؟

صحیح جواب: (د) تشبیب

تفصیل: قصیدے کا ابتدائی حصہ جس میں شاعر کسی موضوع پر تمہید باندھتا ہے، جیسے بہار، برسات یا کوئی فلسفیانہ مضمون، اسے تشبیب کہتے ہیں۔ اس قصیدے میں ساون کا بیان تشبیب ہے۔

سوال 5: مصرعے “ساون میں دیا پھر مہ شوال دکھائی” میں ‘مہ شوال’ کس چیز کی علامت ہے؟

صحیح جواب: (ب) عید کی خوشی اور جشن

تفصیل: ‘مہ شوال’ یعنی شوال کا چاند عید الفطر کی علامت ہے، جو خوشی، جشن اور امید کی نشانی ہے۔ شاعر ساون کے ابر آلود موسم میں شوال کا چاند نظر آنے کو ایک خوش آئند واقعہ قرار دے رہا ہے۔

سوال 6: اس قصیدے میں سودا نے کس کی مدح کی ہے؟

صحیح جواب: (ب) نواب آصف الدولہ

تفصیل: یہ قصیدہ سودا نے اپنے مربی نواب آصف الدولہ، والیِ اودھ کی تعریف میں لکھا تھا۔ قصیدے کا مدح والا حصہ انہی کے لیے وقف ہے۔

سوال 7: ‘ابر گہر بار’ سے کیا مراد ہے؟

صحیح جواب: (ب) موتی برسانے والا بادل

تفصیل: ‘گہر’ کا مطلب موتی اور ‘بار’ کا مطلب برسانے والا ہے۔ ‘ابر گہر بار’ ایک شاعرانہ ترکیب ہے جس کا مطلب ہے ایسا بادل جو بارش کی بوندوں کی جگہ موتی برسا رہا ہو، یعنی بہت قیمتی اور فائدہ مند بارش۔

سوال 8: قصیدے کے اس حصے کو کیا کہتے ہیں جہاں شاعر تشبیب سے مدح کی طرف آتا ہے؟

صحیح جواب: (ج) گریز

تفصیل: ‘گریز’ کا مطلب ہے بچ کر نکلنا یا رخ موڑنا۔ قصیدے میں یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں شاعر بڑی خوبصورتی اور فنکاری سے تمہیدی مضمون (تشبیب) سے اصل موضوع یعنی مدح کی طرف آتا ہے۔

سوال 9: سودا کا شمار اردو شاعری میں کس حیثیت سے ہوتا ہے؟

صحیح جواب: (الف) قصیدہ گوئی اور ہجو گوئی کے امام

تفصیل: مرزا سودا کو اردو میں قصیدہ نگاری اور ہجو نگاری (طنزیہ شاعری) کا سب سے بڑا استاد یا امام تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے قصیدے شان و شوکت اور زورِ بیان کی وجہ سے بے مثال ہیں۔

سوال 10: “ہے چرخ پہ ہر ایک ستارہ بھی گہر بار” – اس مصرعے میں کونسی صنعت استعمال ہوئی ہے؟

صحیح جواب: (ج) مبالغہ

تفصیل: اس مصرعے میں شاعر کہہ رہا ہے کہ آسمان پر ہر ستارہ بھی موتی برسا رہا ہے۔ یہ بات حقیقت سے بہت بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی ہے، اس لیے یہاں صنعتِ مبالغہ کا استعمال ہوا ہے۔

سوال 11: لفظ ‘چرخ’ کا کیا مطلب ہے؟

صحیح جواب: (ب) آسمان

تفصیل: فارسی اور اردو شاعری میں ‘چرخ’ کا لفظ آسمان یا فلک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سوال 12: قصیدے میں ‘ممدوح’ کسے کہتے ہیں؟

صحیح جواب: (الف) جس کی تعریف کی جائے

تفصیل: ‘ممدوح’ عربی لفظ ‘مدح’ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے تعریف۔ قصیدے میں ممدوح وہ شخص ہوتا ہے جس کی تعریف میں قصیدہ لکھا گیا ہو، عام طور پر کوئی بادشاہ، نواب یا امیر۔

سوال 13: سودا کس صدی کے شاعر تھے؟

صحیح جواب: (ب) 18ویں صدی

تفصیل: مرزا سودا کی پیدائش 1713ء اور وفات 1781ء میں ہوئی۔ اس لحاظ سے ان کا تعلق 18ویں صدی عیسوی سے ہے۔

سوال 14: “برق کا کوڑا ہے ہاتھوں میں لیے ابر سیاہ” – اس مصرعے میں ‘برق’ کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟

صحیح جواب: (ب) کوڑے سے

تفصیل: اس مصرعے میں شاعر نے آسمانی بجلی (برق) کو ایک کوڑے سے تشبیہ دی ہے جسے کالا بادل اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ یہ ایک خوبصورت اور طاقتور تشبیہ ہے۔

سوال 15: قصیدے کا آخری حصہ کیا کہلاتا ہے؟

صحیح جواب: (ج) دعا

تفصیل: قصیدے کا اختتام عموماً ‘دعا’ پر ہوتا ہے، جس میں شاعر اپنے ممدوح کے لیے درازیِ عمر، اقبال اور سلطنت کی بقا کے لیے دعا کرتا ہے۔

سوال 16: سودا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کہاں گزارا؟

صحیح جواب: (الف) دہلی اور لکھنؤ

تفصیل: سودا دہلی میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی، لیکن بعد میں دہلی کی تباہی کے باعث وہ لکھنؤ منتقل ہو گئے اور اپنی باقی زندگی وہیں گزاری۔

سوال 17: “مہ شوال” میں ‘مہ’ کا کیا معنی ہے؟

صحیح جواب: (ج) چاند

تفصیل: فارسی زبان میں ‘مہ’ چاند کو کہتے ہیں۔ ‘مہ شوال’ کا مطلب ہے شوال کا چاند۔ مہینے کے لیے ‘ماہ’ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اگرچہ دونوں کا ماخذ ایک ہے۔

سوال 18: اس قصیدے کی تشبیب کا بنیادی موضوع کیا ہے؟

صحیح جواب: (ب) ساون کے مہینے کی کیفیت

تفصیل: قصیدے کے ابتدائی اشعار میں سودا نے ساون کے مہینے، بادلوں، بارش اور بجلی کی چمک کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جو اس کی تشبیب کا مرکزی خیال ہے۔

سوال 19: “جھک کر جو زمیں سے فلک پیر اٹھاوے / بالیدہ ہو نرگس لب جو پر دم میں دکھائی” – ان اشعار میں شاعر کیا بیان کر رہا ہے؟

صحیح جواب: (الف) بارش کا فوری اثر اور پودوں کا اگنا

تفصیل: شاعر مبالغے سے کام لیتے ہوئے کہتا ہے کہ بارش اتنی بابرکت ہے کہ جیسے ہی بوڑھا آسمان زمین سے کچھ اٹھاتا ہے، فوراً ندی کے کنارے نرگس کا پودا اگ آتا ہے۔ یہ بارش کے زندگی بخش اثر کو ظاہر کرتا ہے۔

سوال 20: قصیدے میں ‘حسنِ طلب’ سے کیا مراد ہے؟

صحیح جواب: (ب) مدح کے بعد انعام مانگنے کا فن

تفصیل: قصیدے میں مدح کے بعد شاعر جب اپنے ممدوح سے انعام یا صلہ طلب کرتا ہے تو اس انداز کو ‘حسنِ طلب’ یا ‘مدعا’ کہتے ہیں۔ شاعر اس مرحلے پر اپنی حاجت نہایت فنکارانہ اور لطیف انداز میں بیان کرتا ہے۔

سوال 21: سودا کے ہم عصر شعراء میں سب سے نمایاں نام کونسا ہے؟

صحیح جواب: (الف) میر تقی میر

تفصیل: میر تقی میر اور مرزا سودا ایک ہی دور (18ویں صدی) کے شاعر تھے اور دونوں کا شمار اردو کے سب سے بڑے شعراء میں ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان معاصرانہ چشمک بھی مشہور ہے۔

سوال 22: لفظ ‘بالیدہ’ کا کیا معنی ہے؟

صحیح جواب: (ب) بڑھا ہوا، اگا ہوا

تفصیل: ‘بالیدہ’ کا مطلب ہے نشوونما پایا ہوا، بڑھا ہوا یا اگا ہوا۔ یہ لفظ بالیدگی سے نکلا ہے۔

سوال 23: اس قصیدے کا بنیادی لہجہ کیسا ہے؟

صحیح جواب: (ب) پرشکوہ اور عالمانہ

تفصیل: سودا کے قصیدوں کی خاصیت ان کا پرشکوہ، بلند آہنگ اور عالمانہ لہجہ ہے۔ اس قصیدے میں بھی الفاظ کا انتخاب، تراکیب اور تشبیہات اس کی شان و شوکت کو ظاہر کرتی ہیں۔

سوال 24: “نرگس لب جو” کی ترکیب میں ‘لب جو’ کا کیا مطلب ہے؟

صحیح جواب: (الف) ندی کا کنارا

تفصیل: ‘لب’ کا ایک مطلب کنارا بھی ہے اور ‘جو’ کا مطلب ندی یا چشمہ ہے۔ ‘لب جو’ کا مطلب ہے ندی کا کنارا۔

سوال 25: قصیدے میں ساون اور شوال کا ایک ساتھ ذکر کرنا کونسی ادبی صنعت کی مثال ہے؟

صحیح جواب: (الف) صنعت تضاد

تفصیل: ساون کا موسم ابر آلود اور مسلسل بارش کا ہوتا ہے جس میں چاند نظر آنا مشکل ہے، جبکہ شوال کا چاند صاف آسمان پر نظر آتا ہے اور خوشی کی علامت ہے۔ ان دو متضاد کیفیتوں کو جمع کرنا صنعت تضاد کی عمدہ مثال ہے۔

— مزید 75 سوالات اسی طرز پر جاری ہیں —

سوال 26: سودا کی وجہ شہرت کیا ہے؟

صحیح جواب: (ب) قصیدہ اور ہجو

تفصیل: اگرچہ سودا نے تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، لیکن ان کی اصل شہرت قصیدہ نگاری اور ہجو نگاری (طنزیہ شاعری) کی وجہ سے ہے۔

سوال 50: “فلک پیر” کی ترکیب میں کونسی صنعت ہے؟

صحیح جواب: (ب) استعارہ

تفصیل: یہاں آسمان کو اس کی قدامت کی وجہ سے ‘بوڑھا’ (پیر) کہا گیا ہے۔ یہ استعارہ ہے کیونکہ آسمان کو براہِ راست بوڑھا قرار دیا گیا ہے۔

سوال 75: سودا کا انتقال کہاں ہوا؟

صحیح جواب: (د) لکھنؤ

تفصیل: مرزا رفیع سودا نے اپنی زندگی کے آخری ایام نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ رہ کر لکھنؤ میں گزارے اور وہیں 1781ء میں ان کا انتقال ہوا۔

سوال 100: قصیدے کے مجموعی مطالعے سے سودا کی شاعری کی کونسی خصوصیت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے؟

صحیح جواب: (ج) زورِ بیان، شوکتِ الفاظ اور مضمون آفرینی

تفصیل: یہ قصیدہ سودا کی شاعری کی تمام اہم خصوصیات کا آئینہ دار ہے۔ اس میں الفاظ کا شاندار استعمال (شوکتِ الفاظ)، بیان کی طاقت (زورِ بیان)، اور نئے نئے مضامین پیدا کرنے کی صلاحیت (مضمون آفرینی) عروج پر نظر آتی ہے۔

Scroll to Top